کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 204
پڑھی۔[1] امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک دن اور ایک رات تک بے ہوشی میں رہے یا ایک دن ایک رات سے کم تو نماز فوت شدہ کی قضا پڑھنی چاہیے اور اگر ایک دن ایک رات سے زیادہ بے ہوش رہے تو نماز فوت شدہ کی قضا نہیں ہے۔ واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔حررہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] کون سی حرکت سے نماز فاسد ہوتی ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ دو شخص نماز قریب قریب پڑھ رہے تھے۔ایک مصلی کا دامن دوسرے مصلی سے جو قریب تھا دب گیا،جس کے نیچے دبا تھا،اس نے کچھ اٹھ کر اس کا دامن اپنے نیچے سے نکال دیا،آیا اس حرکت سے اس کی نماز فاسد ہوئی یا نہیں ؟ جواب:نماز میں ضرورت کے وقت اس قسم کے فعل سے اور اس قدر فعل سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے۔ضرورت کے وقت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے نماز کے اندر اس قسم کا فعل اور اس قدر فعل،بلکہ اس سے زیادہ ثابت ہے۔صحیحین میں ہے: ’’عن أبي قتادۃ قال:رأیت النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یؤم الناس،وأمامۃ بنت أبي العاص علی عاتقہ،فإذا رکع وضعھا،وإذا رفع من السجود أعادھا‘‘[3] یعنی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور امامہ ابو العاص کی لڑکی،یعنی آپ کی نواسی،آپ کے کندھے پر تھیں۔جب آپ رکوع کرتے تو ان کو زمین پر رکھ دیتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو پھر اس کو اپنے کندھے پر رکھ لیتے۔ نیز صحیح بخاری میں ہے: ’’عن أنس بن مالک قال:کنا نصلي مع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في شدۃ الحر فإذا لم یستطع أحدنا أن یمکن وجھہ من الأرض بسط ثوبہ فسجد علیہ‘‘[4] یعنی انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب ہم میں سے کوئی زمین پر (گرمی کی وجہ سے) سر نہیں رکھ سکتا تھا تو اپنا کپڑا پھیلاتا۔ مسند اور سنن ابی داود وغیرہ میں ہے: ’’عن عائشۃ قالت:کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یصلي تطوعاً،والباب علیہ مغلق،فجئت [1] سنن الدارقطني (۲/ ۸۱) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۷۵) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۹۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۵۴۳) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۱۵۰)