کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 203
پس موافق مسلک فقہائے حنفیہ کے اگر میت کی نماز فوت شدہ کے بدلے میں صدقہ دیا جائے تو بس اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے،بلکہ میت کے لیے دعائے مغفرت بھی ضرور کرنا چاہیے،کیونکہ دعا کا نفع میت کو بالاتفاق پہنچتا ہے اور اس بارے میں آیاتِ قرآنیہ و احادیث صحیحہ صریح موجود ہیں۔واﷲ تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا بے ہوشی کی حالت میں قضا ہونے والی نماز کا کفارہ یا قضا دینا لازم ہے؟ سوال:ایک شخص سے بحالت بے ہوشی پانچوں وقت کی نماز فوت ہوگئی،اس کا کفارہ دینا لازم ہے یا قضا پڑھنا چاہیے؟ جواب:حالت بے ہوشی میں جو نماز فوت ہو،اس کا کچھ کفارہ نہیں ہے اور اس کی قضا پڑھنے میں علما کا اختلاف ہے۔امام مالک اور شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک اس صورت مسئولہ میں قضا نہیں ہے اور ایک حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتی ہے،وہ حدیث یہ ہے: ’’عن عائشۃ أنھا سألت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن الرجل یغمی علیہ فیترک الصلاۃ؟ فقال:لا شییٔ من ذلک قضاء إلا أن یفیق في وقت صلاۃ فإنہ یصلیہ‘‘[2] (رواہ الدارقطني) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بے ہوش ہوجائے،پس اس کی نماز فوت ہوجائے تو فوت شدہ نماز کو قضا کرے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ کسی فوت شدہ نماز کی قضا نہیں۔اگر کسی نماز کے وقت میں اس کو ہوش ہو تو اس وقت کی نماز اس کو پڑھنا ہوگا۔ اس حدیث سے جو بات ثابت ہوتی ہے،اسی کے قائل ہیں امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ،مگر یہ حدیث نہایت ہی ضعیف و ناقابلِ احتجاج ہے۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک صورتِ مسئولہ میں پانچوں نمازیں فوت شدہ کی قضا پڑھنی ضروری ہے،اس واسطے کہ امام محمد نے کتاب الآثار میں روایت بیان کی ہے: ’’أخبرنا أبو حنیفۃ عن حماد عن إبراھیم عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما أنہ قال في الذي یغمی علیہ یوما ولیلۃ:یقضي‘‘[3] یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو شخص ایک دن اور ایک رات بے ہوش رہے،وہ فوت شدہ نماز کی قضا پڑھے۔ دارقطنی نے یزید مولی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ظہر سے لے کر عصر تک اور مغرب اور عشا تک بے ہوش رہے اور آدھی رات کو ہوش آیا تو انھوں نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نماز [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۷۲) [2] سنن الدارقطني (۲/ ۸۲) اس کی سند میں ’’حکم بن عبداﷲ‘‘ راوی متروک ہے۔ [3] الآثار للشیباني (۱۷۰)