کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 202
اس وصیت کی وجہ سے ورثا کو ضرور چاہیے کہ اس کے ہر روزے کے بدلے آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع جو یا کھجور ایک مسکین کو دیں اور وصیت نہ کرے تو ورثاء کو دینا ضروری نہیں ہے،مگر باوجود اس کے اگر وہ دیں تو ادا ہوجائے گا۔إن شاء اﷲ تعالیٰ۔مشائخ حنفیہ نے روزے کی قضا پر نماز کی قضا کو قیاس کیا ہے استحساناً تو اگر کوئی شخص اپنی نماز کی قضا کے بارے میں وصیت کر کے مرجائے تو ورثا پر ضروری ہے کہ ہر نماز کے بدلے آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع جو یا کھجور ایک مسکین کو دیں اور اگر وصیت نہ کرے تو دینا ضروری نہیں،مگر باوجود اس کے اگر دیں تو ادا ہوجائے گی۔إن شاء اﷲ تعالیٰ۔ہدایہ کی پہلی عبارت جو ہدایہ سے منقول ہوئی ہے،اس عبارت کے بعد یہ عبارت ہے: ’’لأنہ عجز عن الأداء في آخر عمرہ فصار کالشیخ الفاني،ثم لا بد من الإیصاء عندنا خلافا للشافعي‘‘[1] انتھیٰ [کیوں کہ وہ اپنی آخری عمر میں ادا کرنے سے عاجز آگیا ہے اور شیخ فانی کی طرح ہوچکا ہے،پھر ہمارے نزدیک وصیت کرنا بھی ضروری ہے،امام شافعی کے نزدیک نہیں ] ہدایہ کے حاشیے میں ہے: ’’ثم لا بد من الإیصاء عندنا۔معناہ لا بد في لزوم الأداء علیٰ الورثۃ من الإیصاء عندنا،فإنہ إذا لم یوص لم یلزم،ومع ھذا لو أدیٰ الورثۃ یتأدیٰ عنہ إن شاء اللّٰه تعالیٰ،وعند الشافعي وإن لم یوص یجب علیٰ الورثۃ أداؤہ‘‘ انتھیٰ [ہمارے نزدیک مرنے والے کو اپنی نمازوں کے متعلق وصیت کرنا ضروری ہے اور اگر وارث ازخود اس کی طرف سے ادا کر دیں تو ان شاء اﷲ اس کی طرف سے ادا ہوجائیں گی،لیکن ان کے ذمے لازم نہیں ہوگا اور امام شافعی کے نزدیک اگر وصیت نہ بھی کریں تو بھی وارثوں کے ذمے اس کا ادا کرنا واجب ہے] حدیث مرفوع صحیح سے جو بات صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتی ہے،وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص مرجائے اور اس کے ذمے روزے باقی ہوں تو اس کی طرف سے اس کے ولی کو روزہ رکھنا چاہیے اور یہی مذہب اصحابِ حدیث اور ایک جماعت کا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ یہ ہے کہ میت کے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا چاہیے۔یہی مذہب امام مالک و شافعی و ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا ہے۔میت کی فوت شدہ نماز کے بارے میں حدیث صحیح سے کچھ ثابت نہیں ہے،نہ یہ ثابت ہے کہ اس کی طرف سے اس کے ولی نماز پڑھیں اور نہ یہ ثابت ہے کہ اس کی نماز کے بدلے مسکین کو کھانا دیں۔غرض کچھ ثابت نہیں ہے اور اس بارے میں کسی صحابی کا کوئی فتویٰ بھی نظر سے نہیں گزرا، [1] الھدایۃ (ص:۱۲۲)