کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 201
ہے اور وہ فرع میں موجود نہیں ہے،ورنہ اس سے قصر اور فطر بھی لازم آئے گا اور جمع تقدیم ایک خطرناک کام ہے کہ اس سے نماز وقت کے ہونے سے پہلے پڑھی گئی ایسا شخص اس آیت کا مصداق ہے:{وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا}اس پہلے پڑھی گئی نماز کی کوئی دلیل نہیں۔واﷲ أعلم] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفي عنہ۔[1] کیا فوت شدہ شخص کی قضا نمازوں کے بدلے مالی صدقہ فائدہ دے سکتا ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید بعمر پچیس سال مر گیا اور وہ صاحبِ مال تھا۔اب اس کے ورثا چاہتے ہیں کہ کچھ مال اس کے نماز و روزے میں دیا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ نماز،جو بدنی عبادت ہے،مال کے دینے سے ادا ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ اگر ادا ہوسکتی ہے تو فی نماز کس قدر دیا جائے اور نقد دینا بہتر ہے یا اناج یا کوئی مسجد شکستہ کی تعمیر کرنا یا کنواں یا سرائے بنانا؟ فرضیت نماز کی کس وقت سے شمار کی جائے اور اگر مال کے دینے سے ادا نہیں ہوسکتی تو اور کون سی تجویز ہے کہ اﷲ اس کی مغفرت کرے؟ جواب:واضح ہو کہ فقہ حنفی کی رو سے مال کے دینے سے نماز ادا ہوجاتی ہے اور فی نماز آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع خرما یا جو مقرر ہے،چنانچہ ہدایہ میں ہے: ’’ومن مات،وعلیہ قضاء رمضان فأوصیٰ بہ أطعم عنہ ولیہ لکل یوم مسکینا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو شعیر‘‘[2] [یعنی جو شخص فوت ہو گیا ہو اور اس کے ذمے روزہ رمضان کی قضا ہو اور وہ شخص اس کے بارے میں وصیت کر گیا ہو تو اس کے ولی کو ہر روز ایک مسکین کو آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع جو دینا ہو گا] نیز ہدایہ میں ہے: ’’والصلاۃ کالصوم باستحسان المشایخ،وکل صلاۃ تعتبر بصوم یوم ھو الصحیح‘‘ اور نماز مثل روزے کے ہے باستحسان مشائخ اور ہر نماز ایک روزے کے برابر اعتبار کی جائے گی۔یہی صحیح ہے۔ نقد یا اناج سے بہتر یہی ہے کہ کسی مسجد شکستہ کی تعمیر کرا دی جائے یا کوئی کنواں یا سرائے بنوائی جائے،کیونکہ یہ باتیں صدقہ جاریہ کی قسم سے ہیں اور نماز کی فرضیت بالغ ہونے کے وقت سے شمار کی جائے گی،کیونکہ شرعی احکام انسان کے ذمے بلوغ ہی کے وقت سے متعلق ہوا کرتے ہیں۔ حررہ:عبد الحق أعظم گڑھی سید محمد نذیر حسین هو الموافق مذہب حنفی کا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے روزۂ رمضان کی قضا کے بارے میں وصیت کر کے مرجائے تو ورثا پر [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۶۴) [2] الھدایۃ (ص:۱۲۲)