کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 197
بیان نہیں ہے (یعنی یہ بیان نہیں ہے) کہ ظہر و عصر کو آپ نے کس وقت جمع کیا۔آیا آپ نے جمع تقدیم کی؟ یعنی ظہر کے وقت میں ظہر و عصر کو جمع کیا،یا جمع تاخیر کی،یعنی عصر کے وقت میں ظہر و عصر کو جمع کیا یا جمع صوری کی،وعلیٰ ہذا القیاس مغرب و عشا کے جمع کے وقت محدود و معین سے بلا عذر خارج کرنا لازم آئے گا،یا کوئی ایسا جمع مراد لیا جائے،جس سے نماز کا اس کے وقت محددو و معین سے خارج کرنا لازم نہ آئے اور احادیثِ مختلفہ میں توفیق و تطبیق بھی ہوجائے،تو جمع صوری ہی مراد لینا اولیٰ ہے۔[1] علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں جمع سے جمع صوری مراد ہونا متعین ہے،اس پر دلیل نسائی کی یہ حدیث ہے: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہ صلیت مع النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم الظھر والعصر جمیعاً،والمغرب و العشاء جمیعا۔أخر الظھر وعجل العصر،وأخر المغرب وعجل العشاء‘‘[2] یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے پڑھی اور مغرب اور عشا کی نماز جمع کر کے پڑھی۔ظہر میں دیر کی اور عصر میں جلدی اور مغرب میں دیر کی اور عشا میں جلدی کی۔پس جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے،جو حدیث کے راوی ہیں،خود تصریح کر دی کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے تو اس حدیث میں جمع صوری ہی مراد ہونا متعین ہوا۔اس حدیث میں جمع سے جمع صوری مراد ہونے کی تائید ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے: ’’ما رأیت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا إلا صلاتین،جمع بین المغرب والعشاء بالمزدلفۃ،وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا‘‘[3] [میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی کوئی نماز بے وقتی پڑھی ہو،مگر دو نمازیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشا کو مزدلفہ میں جمع کیا اور اس دن صبح کی نماز وقت سے پہلے پڑھی] پس ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمع بین الصلاتین کی مطلقاً نفی کر کے اس کو مزدلفہ میں منحصر کر دیا ہے،حالاں کہ حدیث (( جمع بین الصلاتین في المدینۃ )) کے راوی ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں،پس ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینے میں جو جمع بین الصلاتین واقع ہوئی تھی،وہ جمع حقیقی نہیں تھی،بلکہ صوری تھی،ورنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی دونوں روایتیں باہم ٹکرا جائیں گی۔ [1] فتح الباري (۲/ ۲۴) [2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۵۸۹) یہاں جمع صوری کی وضاحت والے الفاظ راوی حدیث ابو اشعثاء جابر بن زید کے بیان کردہ ہیں،جیسا کہ صحیح بخاری (۱۱۲۰) اور صحیح مسلم (۷۰۵) میں اس کی صراحت موجود ہے۔ [3] مسند أحمد (۱/۳۸۴)