کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 193
تلوار سے قتل کرنا چاہیے۔اور سلف میں سے ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ وہ کافر ہے،اور یہی مذہب مروی ہے حضرت علی سے،اور امام احمد سے ایک روایت میں یہی منقول ہے اور عبداﷲ بن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے اور بعض اصحابِ شافعی کا بھی یہی مذہب ہے اور امام ابو حنیفہ اور ایک جماعت اہلِ کوفہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ نہ کافر ہے اور نہ وہ قتل کیا جائے گا،بلکہ اس کی تعزیر کی جائے گی اور جب تک وہ نماز نہیں پڑھے گا،تب تک وہ قید میں رکھا جائے گا۔ اس کے بعد علامہ شوکانی نے لکھا ہے کہ حق یہ ہے کہ ایسا تارک الصلاۃ کافر ہے اور وہ قتل کیا جائے گا۔اس کا کافر ہونا تو اس وجہ سے حق ہے کہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ شارع نے ایسے تارک الصلاۃ کو کافر کہا ہے اور جو لوگ اس کے کافر ہونے کے قائل نہیں ہیں،وہ جس قدر معارضات وارد کرتے ہیں،ان میں سے ایک بھی ہم کو لازم نہیں آتا،کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ جائز ہے کہ کفر کی بعض قسمیں ایسی ہوں جو مغفرت و استحقاقِ شفاعت سے مانع نہ ہوں،جیسا کہ اہلِ قبلہ کا کفر بوجہ بعض ایسے گناہوں کے جن کو شارع نے کفر کہا ہے،پس اس بنا پر ان تاویلات کی کچھ حاجت نہیں ہے جن میں لوگ پڑتے ہیں۔انتہیٰ کلام الشوکاني مترجما۔ میں کہتا ہوں کہ بلاشبہہ علامہ ممدوح کی یہ تحقیق احق بالقبول ہے،اس واسطے کہ اس تحقیق پر احادیثِ مختلفہ میں بلا کسی تاویل کے جمع و توفیق ہوجاتی ہے،مثلاً حدیث:(( من ترک الصلاۃ متعمداً فقد کفر )) [1] [جو جانتے بوجھتے نماز چھوڑے وہ کافر ہوگا] اور حدیث (( العھد الذي بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر )) [2] [وہ عہد جو ہمارے اور ان کے درمیان ہے،نماز کا ہے،جس نے اس کو چھوڑ دیا،وہ کافر ہوگیا] اور حدیث (( بین الرجل وبین الکفر ترک الصلاۃ )) [3] (رواہ الجماعۃ إلا البخاري والنسائي) [آدمی اور کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا چھوڑنا ہے] اور حدیث (( کان أصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لا یرون شیئاً من الأعمال ترکہ کفر غیر الصلاۃ )) [4] (رواہ الترمذي) [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے علاوہ کسی عمل کے ترک کو کافر نہیں سمجھتے تھے] سے صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تارک الصلاۃ کافر ہے۔ اور آیت:{اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ} [النساء:۴۸] [اﷲ تعالیٰ کسی کو شرک نہیں بخشیں گے اور اس کے علاوہ دوسرے گناہ جس کو چاہیں معاف کر دیں گے] اور حدیث:(( ومن لم یأت بھن فلیس لہ عند اللّٰه عھد،إن شاء عذبہ وإن شاء غفر لہ )) [5] (رواہ أحمد و أبو داود و مالک في الموطأ) [جو ان کو ادا نہیں کرے گا،اﷲ کے پاس اس کا کوئی عہد نہیں،چاہے تو اسے سزا دے،چاہے تو معاف کر دے] اور [1] مسند البزار (۲/ ۱۱۸) [2] مسند أحمد (۵/ ۳۴۶) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۲۳) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۰۷۹) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۲) مسند أحمد (۳/ ۳۷۰) [4] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۲۲) [5] موطأ الإمام مالک (۱/ ۱۲۳) مسند أحمد (۵/ ۳۱۵) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۴۲۰)