کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 192
کا پابند ہو جائے گا اور اس کا فساد بالکل ظاہر ہے۔امام مالک،ابو حنیفہ اور شافعی کا یہی مذہب ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے:’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھی جائے۔‘‘ اور امام احمد،اسحاق بن راہویہ کا مذہب یہ ہے کہ پھر دوسری جماعت میں بھی شامل ہوجائے اور وہ جو حدیث میں مروی ہے کہ ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں مرتبہ فرض کی نیت کر کے نہ پڑھے،بلکہ دوسری مرتبہ نفل نماز کی نیت کرے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین کیا تارکِ نماز کافر ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ تارک الصلاۃ کافر ہوتا ہے یا نہیں اور حدیث (( مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِّداً فَقَدْ کَفَرَ )) کے کیا معنی ہیں ؟ جواب:تارک الصلاۃ کے کافر ہونے اور نہ ہونے میں علمائے کرام مختلف ہیں۔علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار میں لکھتے ہیں: ’’ولا خلاف بین المسلمین في کفر من ترک الصلاۃ منکرا لوجوبھا إلا أن یکون قریب عھد بالإسلام أو لم یخالط المسلمین مدۃ یبلغہ فیھا وجوب الصلاۃ،وإن کان ترکہ لھا تکاسلا مع اعتقادہ لوجوبھا کما ھو حال کثیر من الناس،فقد اختلف الناس في ذلک؛ فذھبت العترۃ والجماھیر من السلف والخلف،منھم مالک والشافعي،إلیٰ أنہ لا یکفر بل یفسق،فإن تاب وإلا قتلناہ حدا کالزاني المحصن،ولکنہ یقتل بالسیف،وذھب جماعۃ من السلف إلی أنہ یکفر،وھو مروي عن علي بن أبي طالب رضی اللّٰه عنہ،وھو إحدی الروایتین عن أحمد بن حنبل،وبہ قال عبد اللّٰه بن المبارک وإسحاق بن راھویہ،وھو وجہ لبعض أصحاب الشافعي،وذھب أبو حنیفۃ وجماعۃ من أھل الکوفۃ والمزني صاحب الشافعي إلیٰ أنہ لا یکفر،ولا یقتل،بل یعزر،ویحبس حتی یصلي‘‘[2] انتھیٰ یعنی جو شخص نماز کے وجوب کا منکر ہو کر نماز کو ترک کرے،وہ بالاتفاق کافر ہے،اس کے کفر میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف نہیں،مگر ہاں جو شخص نو مسلم ہو یا اسے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق نہ ہوا ہو تو اس کو جب تک نماز کے وجوب کی خبر نہ پہنچے،تب تک وہ کافر نہیں ہوسکتا اور جو شخص نماز کے وجوب کا عقیدہ رکھ کر بہ سبب کاہلی اور غفلت کے نماز کو ترک کرے،جیسا کہ بہت سے لوگوں کا حال ہے،سو ایسے تارک الصلاۃ کے کافر ہونے اور نہ ہونے میں لوگوں کا اختلاف ہے،پس عترت اور امام مالک اور امام شافعی اور جماہیر سلف و خلف کا مذہب یہ ہے کہ ایسا شخص کافر نہیں ہے،بلکہ فاسق ہے۔وہ اگر توبہ کرے،فبہا ورنہ اس کو قتل کرنا چاہیے اور اس کی یہی حد ہے،جیسا کہ زانی محصن کی حد قتل ہے،مگر ایسے تارک الصلاۃ کو [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۸۱) [2] نیل الأوطار (۱/ ۳۶۹)