کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 187
جاز إجماعاً،کما في مسجد لیس لہ إمام ولا مؤذن،ویصلي الناس فیہ فوجا فوجا،فإن الأفضل أن یصلي کل فریق بأذان وإقامۃ علیٰ حدۃ،کما في أمالي قاضي خان،ونحوہ في الدرر،والمراد بمسجد المحلۃ ما لہ إمام و جماعۃ معلومون،کما في الدرر وغیرھا۔قال في المنبع والتقیید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز من الشارع،وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلی في مسجد المحلۃ جماعۃ بغیر أذان حیث یباح إجماعا‘‘[1] انتھیٰ ما فی الشامي۔ [محلے کی مسجد میں اذان اور اقامت سے بار بار جماعت کرانا مکروہ ہے،اگر کسی راستے پر مسجد ہو یا ایسی مسجد ہو کہ اس میں کوئی امام اور موذن مقرر نہ ہو تو اس میں تکرارِ جماعت اذان اور اقامت سے بھی مکروہ نہیں ہے،بلکہ افضل ہے۔اگر محلے کی مسجد میں پہلے بغیر اذان کے جماعت ہوئی ہو تو دوسری جماعت اذان اور اقامت سے مکروہ نہیں ہے اور محلے کی مسجد وہ ہے،جس کا امام اور مقتدی معلوم اشخاص ہوں ] اسی طرح سے بدائع اور ظہیریہ اور عالمگیریہ اور شرح منیہ وغیرہم میں لکھا ہے کہ تبدیلِ محراب اور مصلی میں ہیئت جماعۃ اولیٰ کی بدل جاتی ہے اور جماعتِ ثانیہ غیر مصلی اولیٰ پر بلا کراہت ہوجاتی ہے: ’’وفي شرح المنیۃ عن أبي یوسف رحمه اللّٰه أنہ إذا لم تکن الجماعۃ علی الھیئۃ الأولیٰ لا تکرہ وإلا تکرہ،وھو الصحیح،وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ،کذا في البزازیۃ انتھیٰ،وفي التتارخانیۃ عن الولواجیۃ:وبہ نأخذ‘‘[2] انتھیٰ ما في الشامي۔ [امام ابو یوسف کہتے ہیں:اگر دوسری جماعت پہلی ہیئت پر نہ ہو تو مکروہ نہیں ہے،ورنہ مکروہ ہے اور اگر محراب کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ پر جماعت کھڑی ہوجائے تو اس سے ہیئت بدل جاتی ہے] حدیث مندرجہ سوال کو شارحین کتبِ فقہ نے بلا اسناد اور بلا مخرج باختلافِ الفاظ بیان کیا ہے اور کتبِ صحاح میں صحیح سند اس کی کا پتا نہیں لگتا،پس قطع نظر اس کے کہ صحت اور عدمِ صحت حدیث میں بحث کی جائے،مطلب اس حدیث کا یہ نہیں ہے کہ جماعت دوسری مسجد واحد میں مکروہ ہے،بلکہ اس حدیث سے تاکیدِ جماعت ثابت ہوتی ہے،کیونکہ جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہوئے تو کوئی دوسرا نمازی نہیں پایا،اسی واسطے گھر میں جاکر ساتھ اہل اپنے کے نماز پڑھی اور یہ ظاہر ہے کہ اگر کوئی نمازی دوسرا ہوتا تو ضرور ہے کہ ان کو جماعت سے محروم نہ کرتے یا مسجد میں جماعت کراتے یا بیرون مسجد،جیسا کہ حدیث ترمذی سے صاف ثابت ہوتا ہے: ’’عن أبي سعید الخدري قال:جاء رجل،وقد صلی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،فقال:(( أَیِّکُمْ یَتِّجِرُ [1] رد المحتار (۱/ ۵۵۳) [2] رد المحتار (۱/ ۳۹۵)