کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 186
کتبہ:محمد إسماعیل المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ الجواب صحیح۔ محمد ابو القاسم البنارسی تکرارِ جماعت کی شرعی حیثیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک مصلیٰ پر دوبارہ جماعت کرنا مکروہ ہے یا نہیں ؟ جو لوگ مکروہ بتاتے اور منع کرتے ہیں،ان کی دلیل یہ حدیث ہے: ’’روی عبد الرحمن بن أبي بکر عن أبیہ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم خرج من بیتہ لیصلح بین الأنصار فرجع،وقد صلی في المسجد بجماعۃ،فدخل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في منزل بعض أھلہ فجمع فصلیٰ بھم جماعۃ‘‘[1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم انصار میں صلح کرانے کے لیے اپنے گھر سے نکلے،واپس آئے تو مسجد میں جماعت ہو چکی تھی،آپ اپنے کسی حجرے میں چلے گئے اور اپنے گھر والوں کو اکٹھا کر کے ان کی جماعت کرائی] وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر جماعت کا تکرار مکروہ نہ ہوتا تو اسی مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے۔نہ پڑھنا حضرت کا خود دلالت کرتا ہے مکروہ ہونے تکرار جماعت پر۔اب مستفتی استفسار کرتا ہے کہ آیا یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں اور مخرج اس کا کون ہے اور در صورت صحتِ حدیث کے استدلال کراہت تکرارِ جماعت ایک مصلیٰ پر ٹھیک ہے یا نہیں اور علمائے حنفیہ رحمہم اللہ کا اس میں کیا فتویٰ ہے؟ جواب:حقیقت مسئلے کی یہ ہے کہ اگر جماعت اہلِ محلہ نے ہمراہ امام معین کے کرنی ہو تو اسی اہلِ محلہ کے باقی ماندہ کو اسی مسجد محلہ میں بہیئت اولیٰ تکرار جماعت مکروہ ہے،یعنی مسجد محلہ میں ساتھ اذان اور تکبیر کے اسی مصلی پر جماعت ثانیہ اسی اہلِ محلہ کی مکروہ ہے اور اگر بغیر اذان کے یا بہ تبدیل مصلیٰ جماعتِ ثانیہ اسی اہلِ محلہ نے کی تو بلا کراہت درست اور جائز ہے اور اگر غیر اہلِ محلہ نے اول جماعت ساتھ اذان اور اقامت کے کر لی تھی تو اہلِ محلہ کو ساتھ اذان اور اقامت کے جماعت ثانیہ جائز ہے اور جو مسجد شارع عام میں ہو،اس میں تکرارِ جماعت مطلقاً،خواہ ساتھ اذان کے ہو یا بہ تبدیل مصلیٰ ہو یا نہ ہو،ہر طرح درست ہے۔ ’’ویکرہ تکرار الجماعۃ بأذان وإقامۃ في مسجد محلۃ،لا في مسجد طریق أو مسجد لا إمام لہ،ولا مؤذن۔در مختار۔قولہ:بأذان وإقامۃ۔۔۔الخ۔عبارتہ في الخزائن أجمع مما ھنا،ونصھا:یکرہ تکرار الجماعۃ في مسجد محلۃ بأذان وإقامۃ إلا إذا صلیٰ بھما فیہ أولا غیر أھلہ،لکن بمخافتۃ الأذان،ولو کرر أھلہ بدونھما أو کان مسجد طریق [1] المعجم الأوسط (۵/ ۳۵) مجمع الزوائد (۲۱۷۷) تمام المنۃ للألباني (ص:۱۵۵)