کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 185
ان سب احادیث کے ملانے سے وہی بات ثابت ہوتی ہے جو لکھی گئی اور جو صاحب یہ فرماتے ہیں کہ مؤذن کے اذان شروع کرتے ہی صحابہ سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے اور ابن ماجہ کی حدیث مذکور فی السوال سے استدلال کرتے ہیں،نیز یہ بھی فرماتے ہیں کہ مغرب کا وقت بہت تنگ ہے،اس لیے صحابہ ایساکرتے تھے،سو واضح رہے کہ ابن ماجہ کی حدیث مذکور صحیح نہیں ہے،[1] اس حدیث کو شعبہ نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے اور علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے۔[2] (تقریب التہذیب) علاوہ اس کے اس حدیث میں اجمال اور کئی احتمال ہیں،پس اس حدیث سے استدلال کرنا صحیح نہیں اور اسی طرح پر یہ خیال کہ ’’مغرب کا وقت بہت تنگ ہے،اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم اذان کے شروع ہوتے ہی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے‘‘ صحیح نہیں ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت پڑھنے کی گنجایش نہ ہو۔اس خیال کا غلط ہونا احادیث مذکورہ بالا اور دیگر احادیث سے ظاہر ہے۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفا اللّٰه عنہ الجواب صحیح. ابن ماجہ کی حدیثِ مذکور کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ اذان مغرب ہوجانے کے بعد اس کثرت سے لوگ دو رکعت سنت پڑھنے کو کھڑے ہوجاتے کہ نیا آدمی جو آتا تو اس کو گمان ہوتا کہ یہ اذان نہ تھی،بلکہ اقامت تھی اور یہ لوگ جو اس کثرت سے کھڑے ہوگئے ہیں،نمازِ مغرب پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں اور اس گمان کے ہونے کی وجہ اذان کے بعد کثرت سے لوگوں کا سنت پڑھنے کے لیے کھڑا ہوجانا ہے،جیسا کہ اس پر لفظ ’’من کثرۃ من یقوم‘‘ صراحتاً دلالت کرتا ہے اور ابن ماجہ کی اس حدیث سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اذان مؤذن کے شروع کرتے ہی صحابہ سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ ابن ماجہ کی یہی حدیث بسندِ صحیح بخاری اور کتاب قیام اللیل میں مروی ہے۔بخاری کا لفظ یہ ہے:’’کان المؤذن إذا أذن قام ناس من أصحاب النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم۔۔۔الخ‘‘[3] اور ’’قیام اللیل‘‘ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:’’کان المؤذن یؤذن علی عہد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم صلاۃ المغرب،فیبتدر لُبابُ أصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم۔۔۔الخ‘‘[4] ان الفاظ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اذان ہوجانے کے بعد سنت شروع کرتے تھے۔[5] واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [1] سنن ابن ماجہ والی روایت کی سند میں اگرچہ علی بن زید ضعیف ہے،لیکن صحیح بخاری اور مسلم (رقم الحدیث:۸۳۷) وغیرہ میں دیگر روایات میں اس کے شواہد موجود ہیں،جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ [2] تقریب التھذیب (ص:۴۰۱) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۹۹) [4] قیام اللیل (ص:۷۲) [5] اخبار ’’توحید‘‘ امرتسر (۱۲؍ صفر المظفر ۱۳۴۷ھ)