کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 184
الْمَغْرِبِ )) کی زیادتی آئی ہے،[1] سو وہ زیادتی غیر محفوظ اور ناقابلِ استدلال ہے،جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو مفصل و مدلل طور پر بیان کیا ہے۔دیکھو:فتح الباری (۱/ ۳۴۸ مطبوعہ مطبع انصاری) مغرب کی اذان ختم ہونے کے ساتھ ہی بلا وقفہ درود پڑھنا چاہیے،پھر ’’اللّٰهم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ۔۔۔‘‘ آخر تک پڑھنا چاہیے،پھر سنت کو شروع کرنا چاہیے اور مغرب کے قبل کی اس سنت کو فجر کی سنت کی طرح ہلکی پڑھنا چاہیے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’ومجموع الأدلۃ یرشد إلی استحباب تخفیفھما کما في رکعتي الفجر‘‘[2] انتھیٰ اذان کے ختم ہونے کے بعد اقامت کے شروع تک بس اسی قدر وقفہ ہونا چاہیے کہ درود،پھر دعاے مذکور،پھر ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لی جائیں،اس سے زیادہ وقفہ نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح مسلم کی یہ حدیث:(( إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤذِّنَ فَقُولُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ،فَإِنَّہُ مَنْ صَلیّٰ عَلَيَّ صَلاَۃً،صَلیّٰ اللّٰه بِھَا عَشْراً،ثُمَّ سَلُوْا اللّٰه لِيَ الْوَسِیْلَۃَ۔۔۔)) [3] [جب تم موذن کی اذان سنو تو اسی طرح کہو جو وہ کہتا ہے،پھر مجھ پر درود پڑھو،پس بلاشبہہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا،اﷲ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے،پھر اﷲ تعالیٰ سے میرے لیے (مقامِ) وسیلہ کا سوال کرو] اور صحیحین کی یہ حدیث: ’’کان المؤذن إذا أذن،قام ناس من أصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یبتدرون السواري حتی یخرج النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم،وھم کذلک یصلون الرکعتین،ولم یکن بین الأذان والإقامۃ شيء‘‘ وقال عثمان بن جبلۃ وأبو داود عن شعبۃ:’’لم یکن بینھا إلا قلیل‘‘[4] [موذن جب اذان کہتا ہے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی مسجد کے ستونوں کی طرف جلدی کھڑے ہوتے،حتی کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ اسی طرح دو رکعت پڑھ رہے ہوتے،عثمان بن جبلہ اور ابو داود نے شعبہ سے روایت کیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا] امام محمد بن نصر کی روایت میں ہے:’’وکان بین الأذان والإقامۃ یسیر‘‘[5] [اذان و اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا] [1] مسند البزار (۲/ ۱۴۱) [2] فتح الباري (۲/ ۱۰۹) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۸۴) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۹۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۳۷) [5] مختصر قیام اللیل (ص:۷۲)