کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 183
نمازِ مغرب سے پہلے دو رکعتیں نفل پڑھنا: سوال 1:’’سمعت أنس بن مالک رضی اللّٰه عنہ یقول:إن کان المؤذن لیؤذن علی عھد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فیری أنھا الإقامۃ من کثرۃ من یقوم،فیصلي الرکعتین قبل المغرب‘‘[1] اس حدیث کے معنی میں دو شخصوں کا اختلاف ہے۔ایک کہتا ہے کہ اذان کے بعد لوگ کھڑے ہوتے تھے اور یہ صریح دلیل ہے کہ اس اطمینان سے سنت ادا کرتے تھے کہ مسجد میں اگر نیا شخص آجاتا تو اس اذان کی آواز کو اقامت تصور کرتا اور جانتا کہ فرض پڑھ کر اب لوگ سنتیں ادا کر رہے ہیں۔اس معنی کی تائید انھیں انس رضی اللہ عنہ کی روایت،جو مسلم شریف میں ہے،کرتی ہے: ’’فیرکعون رکعتین حتی إن الرجل الغریب لیدخل المسجد فیحسب أن الصلاۃ قد صلیت من کثرۃ من یصلیھا‘‘[2] مغرب کا وقت اس قدر تنگ نہیں ہے کہ اذان شروع ہوتے ہی سنت شروع کی جائے اور اس تیزی سے پڑھے کہ مؤذن کے آنے تک دو رکعت تمام کرے کہ فوراً اقامت ہوجائے اور اذان کے جواب اور وہ دعا جو آپ نے بتایا ہے،اس سے محروم رہے۔اگر ایسا تنگ وقت ہے تو مسلم کی روایت مذکور الصدر صحیح نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مغرب میں سورت اعراف پڑھنا عجیب بات ٹھہری کہ نماز کا اکثر حصہ آپ کے اول وقت سے خارج میں ہو گیا۔ دوسرے صاحب فرماتے ہیں کہ مغرب کا وقت بہت ہی تنگ ہے،اس لیے مؤذن کے اذان شروع کرتے ہی صحابہ سنت پڑھنے کے لیے اس تیزی سے بڑھتے تھے کہ حاضرینِ مسجد کو گمان ہوتا کہ وہ اذان نہ تھی،اقامت ہوئی (یہ عجلت ان کی اس لیے تھی کہ فرض میں تاخیر نہ ہو،اذان کے بعد فوراً اقامت ہوجائے) اب علماے محدثین سے گزارش ہے کہ صحیح کیا ہے؟ مفصل تحریر فرمائیں۔ (( بَیْنَ کُلِّ أَذَانَیْنِ صَلاَۃٌ )) [3] میں آپ کے فرمان (( کل )) سے کوئی وقت مستثنیٰ بھی ہے؟ وہ کونسا وقت ہے؟ یہ استثنا بھی صحیح حدیث ہی سے ثابت ہونا چاہیے اور یہ نماز کس وقت شروع کرے؟ تخمیناً اذان ختم ہونے کے بعد اقامت کے شروع تک کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟ ہر ایک سوال کا جواب نمبروار کتاب و سنت سے مرحمت ہو۔بینوا توجروا! جواب:قبل نماز مغرب جو دو رکعت سنت پڑھنا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے،اس کو اذان اور اقامت کے درمیان پڑھنا چاہیے،اس کے ثبوت کے لیے عبداﷲ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی حدیث متفق علیہ (( بَیْنَ کُلِّ أَذَانَیْنِ صَلاَۃٌ )) نص صریح ہے اور یہ حدیث اپنے عموم پر باقی ہے۔اس عموم سے مغرب کا وقت ہرگز مستثنیٰ نہیں ہے۔کسی حدیث صحیح سے اوقاتِ فرائض پنج گانہ سے کسی وقت کا خارج و مستثنیٰ ہونا ثابت نہیں اور بزار کی روایت میں جو (( إِلاَّ [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۱۶۳) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۳۷) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۹۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۳۸)