کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 182
نہی مذکورہ بالا کے یا بھول کر کرے،اس کی نماز فاسد ہونے کی کوئی وجہ ظاہر نہیں ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔صح الجواب۔أبو الفیاض محمد عبد القادر الأعظم گڑھی المئوی۔صح الجواب۔واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ را جي رحمۃ اللّٰه،أبو الہدی محمد سلامت اللّٰه المبارکفوري،عفا عنہ الباري [1]کیا اذان کے بغیر مسجد میں آکر نماز پڑھ کر چلے جانا جائز ہے؟ سوال:عمرو مسجد میں اذان کے وقت آتا ہے اور دیدہ دانستہ بغیر اذان کے نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے،حالانکہ مسجد مذکور میں وقت پر اذان ہوا کرتی ہے۔آیا اس حالت میں عمرو کی نماز از روئے قرآن و حدیث ہوتی ہے یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر ہرسہ جواب مدلل جلد روانہ فرمائیں،مختصر نہ ہوں۔ سائل:عبدالرحیم،عفا اﷲ عنہ،مقام دو مہانی چٹی،ڈاکخانہ چرن پور ضلع بردوان جواب:جب مسجد میں اذان اول وقت پر ہوتی ہے اور عمرو قبل اذان کے اکیلا نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے اور دیدہ دانستہ جماعت کو چھوڑتا ہے تو اس کا ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں،اس کو چاہیے کہ مسجد میں پہنچ کر خود اکیلا نماز نہ پڑھے،بلکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے۔اگر بلا کسی عذر صحیح کے برابر دیدہ دانستہ جماعت ترک کیا کرے گا تو اس کی نماز ہونے میں تردد ہے۔عمرو کو لازم ہے کہ اپنے اس ناجائز فعل سے توبہ کر لے اور نماز جماعت کے ساتھ پڑھا کرے۔مشکات شریف میں ہے: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيْ فَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنِ اتِّبَاعِہِ عُذْرٌ قَالُوْا:وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ:خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ۔لَمْ تُقْبَلْ مِنْہُ الصَّلاَۃُ الَّتِيْ صَلیٰ )) [2] [جس شخص نے اذان سنی تو اس کا اتباع کرنے سے اس کو کسی عذر نے نہ روکا،انھوں نے پوچھا:عذر کیا ہے؟ کہا:خوف یا مرض،تو اس کی وہ نماز قبول نہ ہوئی جو اس نے (بلا عذر تنہا نماز) پڑھی] نیز اسی کتاب میں ہے: عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یُجِبْہُ فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ إِلاَّ مِنْ عُذْرٍ )) [3] [جس شخص نے اذان سنی مگر باجماعت نماز ادا نہ کی تو اس کی نماز نہیں ہو گی،اِلا یہ کہ اس کو کوئی عذر ہو] کتبہ:محمد إسماعیل المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ ھذہ الأجوبۃ صحیحۃ،کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۲۱۵) [2] سنن أبي داود (۱/ ۲۰۶) سنن الدارقطني (۱/ ۴۲۰) [3] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۷۹۳) سنن الدارقطني (۱/ ۴۲۰)