کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 179
نماز میں بھول چوک اور سجدئہ سہو: سوال:1 امام نے ظہر کی نماز فرض میں چار رکعت کی نیت کر کے تحریمہ باندھا اور سہواً امام نے پانچ رکعت پڑھا اور آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز جائز ہوئی یا فاسد ہوئی؟ 2۔امام عصر کی نماز فرض میں تشہد اول بھول کر سیدھا کھڑا ہوگیا،تب یاد آیا کہ قعدہ اولیٰ بھول گئے،پھر بیٹھ گیا اور تشہد ادا کیا اور دو رکعت پورا کیا،پھر سجدہ سہو کر کے تمام کیا۔آیا نماز صحیح ہوئی یا فاسد؟ جواب قرآن مجید یا صحیح حدیثوں سے تحریر فرمائیں۔ جواب 1:نماز جائز ہوئی۔صحیح بخاری مع فتح الباری (۱/ ۶۳۶ چھاپہ دہلی) میں ہے: ’’باب إذا صلی خمسا۔حدثنا أبو الولید قال:حدثنا شعبۃ عن الحکم عن إبراھیم عن علقمۃ عن عبد اللّٰه أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم صَلیٰ الظُّھْرَ خَمْساً،فَقِیْلَ لَہُ:أَزِیْدَ فِيْ الصَّلاَۃِ؟ فَقَالَ:(( وَمَا ذَاکَ؟ )) قَالَ:صَلَّیْتَ خَمْساً،فَسَجَدَ سَجَدَتَیْنِ بَعْد مَا سَلَّمَ‘‘[1] واللّٰه أعلم بالصواب [باب:جب بندہ پانچ رکعتیں پڑھ جائے۔ہمیں ابو الولید نے بیان کیا،انھوں نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے بیان کیا،انھوں نے حَکم سے،انھوں نے ابراہیم سے،انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا:کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا ہوا؟ کہنے لگے کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کیے] 2۔حدیث شریف میں یہ تو آیا ہے کہ جب مصلی قعدہ اولیٰ بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو پھر نہ بیٹھے۔حدیثِ مذکور یہ ہے: ’’عن ابن بحینۃ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم صَلیٰ فَقَامَ فِيْ الرَّکْعَتَیْنِ فَسَبَّحُوْا بِہِ،فَمَضیٰ،فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاَۃِ سَجَدَ سَجَدَتَیْنِ،ثُمَّ سَلَّمَ‘‘[2] (رواہ النسائي) [ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز پڑھی تو دو رکعتوں کے بعد (بھول کر) کھڑے ہوگئے۔لوگوں نے ’’سبحان اﷲ‘‘ کہا،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جاری رکھی۔پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے،پھر سلام پھیرا] وعن زیاد بن علاقۃ صلیٰ بنا المغیرۃ بن شعبۃ،فلما صلیٰ رکعتیں،قام ولم یجلس، فسبح من خلفہ،فأشار إلیھم أن قوموا،فلما فرغ من صلاتہ،سلم،ثم سجد [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۱۶۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۵۷۶) [2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۱۷۸)