کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 178
کتبہ:محمد عبدالرحمن المبارکفوري عفا اللّٰه عنہ۔ نماز میں بچوں کو کس صف میں کھڑا کیا جائے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک مسجد ہے،جس میں وقت مقرر پر دو تین مقتدی حاضر ہوتے ہیں اور لڑکے سات ہیں،جن کی عمر تخمیناً ۸،۱۰،۱۲ ہے۔نماز کے قاعدے بھی معلوم ہیں۔پنج وقتی نماز میں بھی حاضر رہتے ہیں۔پاکی کی بھی سخت تاکید ہے۔ایسی حالت میں پیچھے صف ان لوگوں کی جائے یا صف کے پوری ہونے کے لیے پہلی صف میں ملا دیا جائے؟ اگر صف میں ملایا جاتا ہے تو بھی دائیں بائیں خالی رہتا ہے۔ملایا جائے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ زید کہتا ہے کہ صف میں نہ ملایا جائے اور بکر کہتا ہے کہ ملایا جائے،تاکہ صف بڑی ہوجائے۔جواب مدلل ازروئے حدیث و قرآن ہونا چاہیے۔ سائل:عبدالرحیم،عفا اﷲ عنہ،مقام دو مہانی چٹی،ڈاکخانہ چرن پور ضلع بردوان جواب:صورتِ مسئولہ میں لڑکوں کی صف پیچھے ہونی چاہیے اور ان کو صف کے پوری ہونے کے لیے پہلی صف میں نہیں ملانا چاہیے،کیونکہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے مردوں کی صف ہونا چاہیے،پھر اس کے پیچھے لڑکوں کی،ہاں اگر ایک لڑکا ہو اور ایک مرد ہو تو اس صورت میں لڑکے کو ملا کر امام کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے،یا مرد زیادہ ہیں اور لڑکا فقط ایک ہے تو اس صورت میں بھی لڑکے کو صف میں ملا لینا چاہیے اور لڑکے کو صف کے پیچھے اکیلا نہیں کھڑا ہونا چاہیے۔ درایہ تخریجِ ہدایہ میں ہے: ’’عن أبي مالک الأشعري أنہ أم قومہ،وصف الرجال في أدنی الصف،وصف الولدان خلفھم،وصف النساء خلفھم‘‘ أخرجہ أحمد موقوفا،لکن قال فیہ:’’حتی أریکم صلاۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،[1] وأخرجہ ابن أبي شیبۃ و الطبراني من وجہ آخر،فصرح برفعہ،وکذلک الحارث بن أبي أسامۃ‘‘ حضرت انس کی حدیث متفق علیہ میں ہے: ’’فصففت أنا والیتیم خلفہ،والعجوز من ورائنا‘‘[2] ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد إسماعیل المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ ھذہ الأجوبۃ صحیحۃ،کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ [1] الدرایۃ في تخریج أحادیث الھدایۃ (۱/ ۱۷۱) نیز دیکھیں:مسند أحمد (۵/ ۳۴۳) مصنف ابن أبي شیبۃ (۵/۳۴۳) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۷۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۵۸)