کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 177
مستثنیٰ ثابت و واجب کرتا ہے صلاۃ مکتوبۃ مقام لہا کو۔پس یہ وجوب دو حال سے خالی نہیں،آیا یہ وجوب بوجہ اقامت کے ہوا ہے یا قبل سے اس پر واجب تھا،صرف اقامت نے بفور بدون تراخی کے اد اکرنے کو واجب کر دیا،صورت اولیٰ کا کوئی قائل نہیں کہ بوجہ اقامت کے وجوبِ صلاۃ ہوتا ہے۔ومن ادعیٰ فعلیہ البیان بالبرھان۔ باقی رہی صورتِ ثانیہ تو اس سے وہ افراد مصلین نکل گئے جو اپنی صلاۃِ مکتوبہ کو ادا کر چکے ہیں تو مطلب حدیث شریف کا یہ ہوا ’’إذا أقیمت الصلاۃ وکنتم تریدون المکتوبۃ التي وجبت علیکم فلا صلاۃ إلا المکتوبۃ‘‘ واللّٰه أعلم۔ حررہ:السید عبد الحفیظ،غفرلہ ولوالدیہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق جبکہ اکثر مصلین اپنے فرض نماز سے فارغ ہوچکے ہوں اور عازمِ نوافل راتبہ ہوں اور اسی اثنا میں اشخاص مسبوقین کی جماعت ثانیہ کے لیے اقامت کہی جائے تو ان عازمینِ نوافل کو نوافل پڑھنا جائز ہے اور ان کو نوافل کو چھوڑ کر اس جماعت ثانیہ میں شریک ہونا ضروری نہیں ہے،رہی حدیث مذکور سو اس میں جملہ ’’إذا أقیمت الصلاۃ‘‘ سے مطلق ہر نماز مراد نہیں ہے،بلکہ وہ فرض نماز مراد ہے جو ادا نہیں کی گئی ہے۔خلاصہ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اے نمازیو! جب اس فرض نماز کے لیے اقامت کہی جائے جس کو تم نے ابھی ادا نہیں کیا ہے تو بجز اس فرض نماز کے تم کو کوئی اور نماز نہیں پڑھنا چاہیے،پس صورتِ مسئولہ حدیث مذکور کے حکم سے خارج ہے۔واﷲ تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔[1] اگررکوع سے پہلے آیتِ سجدہ آئے تو نمازی کیا کرے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے میں کہ سورت والنجم میں سجدہ ہے۔پس اگر کوئی شخص اس سورۃ کو نماز میں کسی رکعت میں پڑھے اور پوری سورت پڑھ کر سجدے میں جائے اور سجدے سے اٹھ کر کھڑا ہو تو کیا کرے؟ آیا کچھ اور قرآن پڑھ کر رکوع میں جائے یا بغیر کچھ اور پڑھے رکوع کرے؟ جواب:اس بارے میں کوئی مرفوع حدیث نظر سے نہیں گزری،ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ انھوں نے نماز میں سورت والنجم پڑھ کر سجدہ کیا،پھر سجدے سے اٹھ کر سورت {اِِذَا زُلْزِلَتِ} پڑھی۔فتح الباری میں ہے: ’’روی الطبري بسند صحیح عن عبد الرحمن بن أبزیٰ عن عمر أنہ قرأ والنجم في الصلاۃ فسجد فیھا،ثم قام فقرأ {اِِذَا زُلْزِلَتِ}‘‘[2] [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۵۲۴) [2] فتح الباري (۲/ ۵۵۵)