کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 176
مبارکاً فیہ،فلما انصرف،قال:(( مَنِ الْمُتَکَلِّمُ؟ )) قال:أنا،قال:(( رَأَیْتُ بِضْعَۃً وَّثَلاَثِیْنَ مَلَکاً یَبْتَدِرُوْنَھَا،أَیُّھُمْ یَکْتُبُھَا أَوَّلُ )) [1] ’’رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہا کہ ہم لوگ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے،آپ نے جب رکوع سے سر مبارک اٹھایا،فرمایا:’’سمع اللّٰه لمن حمدہ‘‘ آپ کے پیچھے ایک شخص نے کہا:’’ربنا لک الحمد،حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ‘‘ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے،فرمایا:کس نے یہ کلمات کہے؟ اس شخص نے کہا:میں نے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیس اور چند فرشتوں کو میں نے دیکھا،جھپٹے تھے ان کلموں کی طرف کہ کون ان کو پہلے لکھے گا۔‘‘ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اس صحابی نے یہ کلمات بآواز بلند کہے تھے،جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور انکار نہ فرمایا،اس سے معلوم ہوا کہ بآواز کہنا درست ہے،ورنہ آپ ضرور منع فرماتے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عصمت اللّٰه،عفا اللّٰه عنہ الأعظم گڑھی البختاورگنجی،مدرس مدرسہ أحمدیہ آرہ۔الجواب صحیح۔محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفي عنہ۔صح الجواب واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ راجي رحمت اللّٰه أبو الہدیٰ محمد سلامت اللّٰه المبارکفوري الأعظم گڈھی [2] حدیثِ نبوی (( إِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ صَلاَۃَ إِلاَّ الْمَکْتُوْبَۃَ )) کا مطلب: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حدیث شریف (( إِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ صَلاَۃَ إِلاَّ الْمَکْتُوْبَۃَ )) میں لفظ ’’إذا‘‘ عمومِ زمان کے لیے ہے اور ’’فلا صلاۃ‘‘ میں ’’صلاۃ‘‘ عام ہے،جو ہر نماز فرض و غیر فرض کو شامل ہے،کیونکہ نکرہ نفی میں عموم کا فائدہ دیتا ہے؟ پس اس حدیث کا ظاہر مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اور جس وقت کسی نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو بجز نماز مکتوبہ مقام لہا کے کوئی اور نماز پڑھنی نہیں چاہیے،نہ فرض اور نہ غیر فرض،پس سوال یہ ہے کہ جب اکثر مصلین کسی نماز فرض سے فارغ ہو کر عازم نوافل راتبہ کو ہوئے،اسی اثنا میں چند اشخاص مسبوقین جماعتِ ثانیہ کی اقامت کہہ کر فرض نماز میں شامل ہوئے،پس ان عازمین نوافل کو بوقتِ اقامت ان مفترضین کے بحکم حدیث مذکور نوافل پڑھنا چاہیے یا نہیں یا نوافل کو چھوڑ کر جماعت ثانیہ میں شریک ہوجانا چاہیے؟ جواب:معلوم کرنا چاہیے کہ اس حدیث شریف میں جملہ ’’فلا صلاۃ‘‘ کا نفی کرتا ہے جملہ صلاۃ کا فرض ہو یا نفل اور [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۶۶) [2] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری،(ص:۱۹۳)