کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 173
مسلم الثبوت میں ہے: ’’فعل الصحابي العادل العالم مخصص عند الحنفیۃ والحنابلۃ خلافا للشافعیۃ والمالکیۃ‘‘[1] انتھیٰ مختصراً [عادل،عالم صحابی کا فعل حنفیوں اور حنبلیوں کے نزدیک حدیثِ مطلق کا مخصص ہے،برخلاف شافعیہ اور مالکیہ کے] اور اہلِ علم پر مخفی نہیں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا فعل آمین بالجہر ہی تھا۔امام کے پیچھے صحابہ رضی اللہ عنہم آمین بالجہر ہی کہا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں ہے: ’’أمن ابن الزبیر ومن وراء ہ حتی أن للمسجد للجۃ،وکان أبو ھریرۃ ینادي الإمام:لا تفتني بآمین‘‘[2] [ابن زبیر اور ان کے مقتدیوں نے آمین کہی تو مسجد گونج اٹھی۔حضرت ابوہریرہ امام کو آواز دیا کرتے تھے کہ مجھے آمین کہہ لینے دینا] فتح الباری میں ہے: ’’وصلہ عبد الرزاق عن ابن جریج عن عطاء قال:قلت لہ:أکان ابن الزبیر یؤمن علی أثر أم القرآن؟ قال:نعم،ویؤمن من وراء ہ حتی أن للمسجد للجۃ،ثم قال:إنما آمین دعاء۔قال:وکان أبو ھریرۃ یدخل المسجد،وقد قام الإمام فینادیہ فیقول:لا تسبقني بآمین،ورویٰ البیھقي من وجہ آخر عن عطاء قال:أدرکت مائتین من أصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في ھذا المسجد إذا قال الإمام:ولا الضالین،سمعت لھم رجۃ بآمین‘‘[3] [ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے سوال کیا:کیا عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہما آمین کہا کرتے تھے؟ کہا:ہاں،آپ کے مقتدی بھی آمین کہتے تھے تو مسجد گونج اٹھتی تھی،پھر فرمایا کہ آمین دعا ہے اور فرمایا کہ ابوہریرہ مسجد میں آتے اور جماعت کھڑی ہو چکی ہوتی تو امام کو آواز دیتے:میری آمین ضائع نہ کرنا۔عطا کہتے ہیں کہ میں نے دو سو صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس مسجد میں اس حال میں دیکھا کہ جب امام {وَلَا الضَّالِیْنَ} کہتا تو ان کی آواز سے مسجد کانپ جاتی] پس جب ثابت ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم امام کے پیچھے آمین بالجہر کہتے تھے تو صحابہ کا یہ فعل مطابق قاعدہ مذکورہ حنفیہ [1] مسلم الثبوت مع فواتح الرحموت (۱/ ۳۷۲) [2] صحیح البخاري (۲/ ۱۹۰) [3] فتح الباري (۲/ ۲۶۲)