کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 172
اگر تم یہ کہو کہ جب قول مطلق ہے اور اس کے دو فرد ہیں،قول بالجہر و قول بالسر،تو اس حدیث سے جیسے مقتدیوں کے لیے آمین بالجہر کہنا صراحتاً ثابت ہوتا ہے،اسی طرح ان کے لیے آمین بالسر کہنا بھی صراحتاً ثابت ہوتا ہے،کیونکہ اس حدیث میں لفظ (( قولوا )) مطلق واقع ہے اور بالجہر یا بالسر کی قید نہیں ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب لفظ مطلق علی الاطلاق بلا کسی قید کے استعمال کیا جاتا ہے تو اس مطلق سے اس کا فرد کامل مراد ہوتا ہے اور فرد ناقص مراد نہیں ہوتا ہے،اور یہ قاعدہ فقہائے حنفیہ کے نزدیک بھی مسلم ہے۔علامہ صدر الشریعہ توضیح میں تحریر فرماتے ہیں: ’’لأن المطلق لا یتناول رقبۃ وھو فائت جنس المنفعۃ،وھذا ما قال علماؤنا:إن المطلق ینصرف إلی الکامل‘‘[1] انتھی [اس لیے کہ مطلق ایسے غلام کو شامل نہیں ہوگا،جس میں نفع کی جنس مفقود ہو،ہمارے علما نے کہا ہے کہ مطلق فرد کامل کی طرف پھرتا ہے] علامہ محب اﷲ البہاری ’’مسلم الثبوت‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’فانتقال الذھن من المطلق إلی الکامل ظاھر‘‘ انتھی [ذہن کا مطلق سے فرد کامل کی طرف پھرنا ظاہر بات ہے] ملا جیون ’’نور الانوار‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ولنا في ھذا المقام ضابطتان:احدھما أن المطلق یجري علی إطلاقہ،والثانیۃ أن المطلق ینصرف إلی الفرد الکامل،فالأول في حق الأوصاف کالإیمان والکفر،والثاني في حق الذات کالزمانۃ والعمی‘‘ انتھیٰ مختصراً۔ [ہمارے اس مقام میں دو قاعدے ہیں:ایک یہ کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ مطلق فرد کامل کی طرف پھرتا ہے،پس پہلا تو صفات کے حق میں ہے،جیسے ایمان اور کفر اور دوسرا ذات کے حق میں ہے،جیسے اپاہج اور نابینا ہونا وغیرہ] ان تمام عبارات سے صاف ظاہر ہوا کہ جب مطلق کا استعمال بلا کسی قید کے ہوتا ہے تو اس کا صرف وہی فرد مراد ہوتا ہے جو کامل ہوتا ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ مطلق قول کے دونوں فرد قول بالجہر و قول بالسر میں سے قول بالجہر ہی فرد کامل ہے اور مطلق قول سے اسی قول بالجہر ہی کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے،بنا بریں حدیث مذکور میں لفظ (( فقولوا آمین )) سے آمین بالجہر کا مراد ہونا متعین ہے اور مطابق قاعدہ مذکورہ کے آمین بالسر مراد لینا جائز نہیں ہے۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ عند الحنفیہ یہ قاعدہ مسلم ہوچکا ہے کہ قولِ صحابی مطلق یا عام کا مخصص ہوتا ہے۔ [1] شرح التلویح علی التوضیح (۱/ ۱۲۱)