کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 171
آمین بالجہر کی شرعی حیثیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ آمین بالجہر خاص مقتدیوں کے واسطے بالفاظ صریح غیر محتمل المعنیین آیا کسی حدیث صحیح مرفوع متصل الاسناد سے ثابت ہے یا نہیں ؟ امام پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے،اس لیے کہ امام بہت سی چیزوں کو بالجہر کہتا ہے،مثلاً:تکبیر و قراء ت و سلام وغیرہ۔آیا کسی حدیث سے یہ بات ثابت ہے یا نہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کسی مقتدی نے آمین بالجہر کہی ہے یا نہیں ؟ 2۔آمین بالجہر علی الخصوص نماز جہری میں کیوں خاص کی گئی ہے؟ آیا کسی حدیث صحیح مرفوع سے تخصیص صلاۃ جہری و نفی صلاۃ سری کی بصراحت تمام وارد ہے یا نہیں ؟ اگر وارد ہے تو براہِ مہربانی دونوں سوالوں کا جواب حدیث مرفوع متصل الاسناد سے مع روات و اسامی کتب کے تحریر فرمایا جائے،بدرجہ تنزل میں اس کی بھی اجازت دیتا ہوں کہ حدیث حسن یا ضعیف قابلِ عمل ہی سے لکھا جائے۔واضح رہے کہ آثارِ صحابہ سے استدلال نہیں چاہتا ہوں۔ جواب 1:ہاں آمین بالجہر خاص مقتدیوں کے واسطے بالفاظ صریح غیر محتمل المعنیین ایسی حدیث صحیح مرفوع متصل الاسناد سے ثابت ہے،جس کی صحت پر تمام علماے اہلِ سنت والجماعت کا اتفاق ہے،یعنی حدیث متفق علیہ سے ثابت ہے۔وہ حدیث یہ ہے: ’’عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( إِذَا قَالَ الْإِمَامُ:{غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ} فَقُوْلُوْا:آمِیْن،فَإِنِّہُ مَنْ وَافَقَ قُوْلُہُ قَوْلَ الْمَلاَئِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ )) [1] أخرجہ البخاري و مسلم،واللفظ للبخاري۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہا کرو،جس کا قول فرشتوں کے موافق ہو جائے گا،اس کے پچھلے گناہ بخشے جائیں گے] اس حدیث میں لفظ (( فقولوا )) کا مصدر قول ہے،جو متضمن معنیین یا معانی چند کا ہر گز نہیں ہے،کیونکہ قول کے معنی لغت میں صرف گفتن کے ہیں،پس معلوم ہوا کہ لفظ (( قولوا )) مشترک نہیں ہے اور جب مشترک نہیں ٹھہرا تو محتمل معنیین کا نہیں ہوسکتا۔غایت ما فی الباب لفظ قول چونکہ مطلق ہے،اس وجہ سے اس کے افراد نکلیں گے اور کم از کم اس کے دو فرد نکلیں گے:قول بالجہر و قول بالسر،پس اس حدیث متفق علیہ سے جو مرفوع متصل الاسناد اور نہایت صحیح ہے،آمین بالجہر مقتدیوں کے واسطے بالفاظ صریح غیر محتمل المعنیین ثابت ہوا اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مقتدی آمین بالجہر کہتے تھے،کیونکہ لفظ (( قولوا )) کے اصل مخاطب صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں،جو آپ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کے لیے جان سے حاضر رہتے تھے۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۴۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۴۱۰)