کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 169
حدیث کے مضمون سے مذہب ثانی کا با اصلی ہونا نہیں ثابت ہوتا ہے،بلکہ معاملہ برعکس ہے۔قال في التعلیق الممجد: ’’واقتصر فیہ علیٰ ذکر أواخر الأوقات المستحبۃ دون أوائلھا،فکأنہ قال:الظھر من الزوال إلیٰ أن یکون ظلک مثلک،والعصر من ذلک الوقت إلیٰ أن یکون ظلک مثلیک‘‘[1] انتھیٰ [اس میں صرف آخری مستحب اوقات کا ذکر ہے،نہ کہ ابتدائی وقتوں کا،گویا آپ نے فرمایا:ظہر زوال سے شروع ہو کر ایک مثل تک ہے اور اس وقت سے آگے دو مثل تک عصر کا وقت ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفي عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین قراء تِ فاتحہ خلف الامام کی شرعی حیثیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ قراء تِ فاتحہ خلف الامام فرض ہے یا نہیں اور حدیث قراء ت کی اصح و اثبت ہے یا حدیث عدمِ قراء ت کی؟ جواب:قراء ت خلف الامام فرض ہے اور حدیث قراء ت کی اعلیٰ درجے کی صحیح و ثابت ہے اور حدیث عدمِ قراء ت کی ضعیف و غیر صحیح ہے۔بلوغ المرام میں ہے: ’’عن عبادۃ بن الصامت قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأُ بَأُمِّ الْقُرْآنِ )) متفق علیہ،وفي روایۃ لابن حبان و الدارقطني:(( لا تجزیٔ صلاۃ لا یقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب )) [3] یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی،اس کی نماز نہیں۔ابن حبان اور دارقطنی کی روایت میں ہے کہ جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے،وہ نماز کافی نہیں۔ اس حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر فرما دیا کہ جو شخص مقتدی ہو یا امام یا منفرد نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھے،اس کی نماز نہیں ہوتی،پس ثابت ہوا کہ ہر نمازی کے لیے سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔یہ حدیث متفق علیہ ہے،اس وجہ سے اعلیٰ درجے کی صحیح ہے اور مقتدیوں کو خاص طور پر بھی سورت فاتحہ امام کے پیچھے پڑھنے کو فرما دیا ہے۔ [1] التعلیق الممجد (۱/ ۴۳) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۱۰) [3] بلوغ المرام (۲۷۷) نیز دیکھیں:صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۵۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۹۴) سنن الدارقطني (۱/ ۳۲۱) صحیح ابن حبان،رقم الحدیث (۱۷۸۹)