کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 166
ہوگا،امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے اور آپ سے ایک دوسری روایت بھی ہے،جو امام ابو یوسف،محمد اور امام شافعی کا قول ہے،یعنی جب زوال کے سائے کے علاوہ سایہ ایک مثل ہو] کفایہ میں ہے: ’’وطریقۃ معرفۃ الزوال أن ینصب عودا مستویا في الأرض فما دام ظل العود في النقصان علم أن الشمس في الارتفاع،وإن استویٰ الظل علم أنہ حالۃ الزوال،فإذا أخذ الظل في الزیادۃ علم أنھا زالت فیخط علی رأس الزیادۃ فیکون من رأس الخط إلی العود فییٔ الزوال،فإذا صار ظل العود مثلیہ من رأس الخط،لا من العود،خرج الظھر عندہ‘‘[1] [زوال معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک سیدھی لکڑی زمین میں گاڑ دی جائے،جب تک سایہ کم ہوتا جائے،سمجھا جائے گا کہ سورج بلند ہو رہا ہے،جب سایہ برابر ہوگا تو یہ حالتِ زوال تصور ہو،جب سایہ بڑھنے لگے تو شروع زوال کی علامت ہوگا،اس مقام پر ایک خط کھینچ لیجیے،اس خط سے لکڑی تک کا سایہ زوال کا سایہ ہوگا،اب جب لکڑی کا سایہ خط کے اس سرے سے آگے لکڑی سے دوگنا ہوجائے گا تو امام صاحب کے نزدیک ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا] شرح مختصر وقایہ میں ہے: ’’ثم یعلم علی رأس الظل علامۃ عند انحرافہ فإذا صار الظل من تلک العلامۃ لا من العود مثلي العود خرج وقت الظھر عند أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰه ‘‘[2] [پھر جب سایہ پھرنے لگے تو اس کے سرے پر نشان لگا لیا جائے تو اس نشان سے لے کر سایہ جب دوگنا ہو جائے گا تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا] شاید زید متاخرین حنفیہ کے یہ دونوں قول دیکھ کر اس سے اپنا مطلب نکالتا ہے،مگر درحقیقت یہ اس کی سمجھ کا فرق ہے،ان دونوں قولوں کا بھی وہی مطلب ہے،جو شامی اور صاحبِ شرح وقایہ نے بیان کیا ہے۔مطلب اس علامت اور خط سے بھی یہی ہے کہ فئی الزوال کا قدر معلوم کرنا ضروری ہے،اس علامت اور خط کے ا ندازے پر سایہ جس طرف ہو جائے،اسی قدر بوقتِ عصر چھوڑ کر زائد ازاں یک مثل پورا کرنا ضروری ہے،غرضیکہ زید کی تشریح و بیان کی سند میں میری نظر سے نہ کسی محدث کا قول گزرا ہے اور نہ کسی فقیہ کا،یہ فقط اس کا عندیہ معلوم ہوتا ہے۔واﷲ أعلم۔عبدالجبار بن عبداﷲ الغزنوی بے شک فیصلہ مولوی عبدالجبار غزنوی بہت درست ہے اور پیمایش ان کی موافق حدیث جابر رضی اللہ عنہ،جو ذیل میں درج ہے،بہت ٹھیک ہے کہ جس طرح سایہ بعد زوال پڑے،لکڑی کی جڑ سے بقدر سایہ اصلی،یعنی فئی زوال اور ایک [1] عمدۃ الرعایۃ (۲/ ۲۰۲) [2] مصدر سابق۔