کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 164
’’آخر وقت الظھر أن یصیر ظل کل شيء مثلہ بعد ظل نصف النھار‘‘[1] [ظہر کا آخری وقت یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ زوال کا سایہ نکال کر اس کے برابر ہوجائے] اور فقہائے حنفیہ کی کتابوں میں تو یہ بات مشہور و معروف ہے: ’’وقالا:إذا صار ظل کل شيء مثلہ سوی فییٔ الزوال،وھو روایۃ عن أبي حنیفۃ،و فییٔ الزوال ھو الفییٔ الذي یکون للأشیاء وقت الزوال‘‘[2] [وہ کہتے ہیں کہ سایہ زوال کو چھوڑ کر جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو یہی ظہر کا وقت ہے،امام ابوحنیفہ سے بھی ایک روایت یہی ہے اور سایہ زوال سے وہ سایہ مراد ہے،جو نصف النہار کے وقت ہوتا ہے] اسی طرح شوکانی نیل الاوطار اور درر بہیہ میں فرماتے ہیں: ’’وآخرہ مصیر ظل الشيء مثلہ سوی فییٔ الزوال‘‘[3] [اس کا آخری وقت یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ سوائے دوپہر کے سائے کے اس کے برابر ہوجائے] نیز شاہ ولی اﷲ صاحب نے بھی مصفی و حجۃ اﷲ البالغہ میں اور نواب صاحب نے اپنی تصانیف میں اسی کی تصریح کی ہے۔غرض فے زوال کے سوا ایک مثل یا مثلین تک ظہر کا وقت رہتا ہے اور من بعد عصر کا وقت ہونا مسئلہ متفق علیہا ہے۔یہ امر بدیہی ہے کہ اس ملک میں پوس مانگھ کے مہینوں میں سارے دن میں کوئی ایسا وقت نہیں آتا ہے کہ سایہ ہر شے کا اس سے زیادہ نہ ہو،تو وقت دوپر کون سا ہوا؟ تو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ سوائے فئی الزوال کے جب ایک مثل ہوجائے تو وقتِ عصر داخل ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ فئی الزوال کس طرح نکالنا چاہیے؟ تو علما نے اس کا یہ طریقہ لکھا ہے کہ زمین ہموار میں ایک لکڑی کو سیدھا کھڑا کر کے دیکھے کہ عین استوائے شمس میں سایہ اس لکڑی کا کس قدر ہے:لکڑی کے مثل یا کم و بیش؟ جس قدر سایہ ہو،اسی قدر سایہ چھوڑ کر اس پر زائد جو ایک مثل ہوجائے،عصر کا وقت داخل ہوتا ہے۔لکڑی کی جڑ سے ایک مثل پورا کرنے سے وقت عصر کا داخل نہیں ہوتا۔ امام ابو الحسن مالکی شرح رسالہ ابن ابی زید میں لکھتے ہیں: ’’ویعرف الزوال بأن یقام عود مستقیم فإذا تناھیٰ الظل في النقصان،وأخذ في الزیادۃ فھو [1] رسالۃ القیرواني (ص:۲۴) [2] الھدایۃ (ص:۳۸) [3] نیل الأوطار (۱/ ۳۸۱) الدرر البھیۃ (ص:۴۴)