کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 163
سے سات اقدام تک تھا] اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ فے زوال کا اعتبار ہے،وگرنہ یہ فرق کیوں ہوتا؟ اس حدیث میں اگرچہ قدرے ضعف ہے،مگر تعامل اہلِ علم کا اس حدیث کے ضعف کو رفع کرتا ہے،جیسا کہ اصولِ حدیث میں ہے کہ تعامل اہلِ علم سے حدیث کا ضعف رفع ہوتا ہے۔ امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں: ’’متی خرج وقت الظھر بمصیر ظل الشییٔ مثلہ غیر الظل الذي یکون عند الزوال دخل وقت العصر‘‘[1] [جب ظہر کا وقت نکل جائے اور زوال کے سائے کے علاوہ ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو جائے تو اب عصر کا وقت شروع ہوگیا] زرقانی شرح موطا میں ہے: ’’صل الظھر إذا کان ظلک مثلک أي مثل ظلک بغیر ظل الزوال‘‘[2] [ظہر کی نماز اس وقت پڑھ جب کہ زوال کے سائے کے علاوہ تیرا سایہ تیری مثل ہوجائے] شرح مختصر حنابلہ میں ہے: ’’وقت العصر المختار من غیر فصل بینھما،ویستمر إلی مصیر الفییٔ مثلیہ بعد فییٔ الزوال،أي بعد الظل الذي زالت علیہ الشمس‘‘[3] [ان دونوں کے درمیان فصل (انقطاع) کیے بغیر یہ عصر کا مختار وقت ہے اور یہ زوال کے سائے کے بعد سائے کے دو مثل ہونے تک جاری رہتا ہے،یعنی اس سائے کے بعد جس پر سورج ڈھلتا ہے] امام نووی منہاج میں،جو فقہ شافعیہ میں نہایت معتبر کتاب ہے،لکھتے ہیں: ’’آخرہ (أي وقت الظھر) مصیر ظل الشيء مثلہ سوا ظل استواء الشمس‘‘[4] [ظہر کا آخری وقت یہ ہے کہ کسی چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے،اس سائے کے علاوہ جو بوقتِ زوال ہوتا ہے] ابن ابی زید مالکی اپنے رسالے میں،جو فقہ مالکی میں معتبر کتاب ہے،لکھتے ہیں: [1] شرح صحیح مسلم للنووي (۵/ ۱۱۰) [2] شرح الزرقاني (۱/ ۳۷) [3] الروض المربع (۱/ ۵۷) [4] المنھاج للنووي (ص:۲۱)