کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 161
بن وائل کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی،جب آپ {وَلَا الضَّالِیْنَ} پر پہنچے تو آہستہ آواز سے آمین کہی۔یہ حدیث ضعیف ہے،لیکن اس امر میں وسعت ہے،سنت صرف آمین کہنا ہے۔آہستہ کہنے یا بلند آواز سے کہنا دونوں ٹھیک ہیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] ایک مسجد کی اشیا کو فروخت کر کے دوسری مسجد پر خرچ کرنا: سوال:ہمارے یہاں کی مسجد سفالہ پوش ہے،ارادہ ہے کہ اس کے کل سامان کو فروخت کر کے مسجد کو پختہ پلاسٹر کر دیا جائے یا دوسری مسجد پر اس کا سامان دے دیا جائے کہ وہ مسجد تیار ہوجائے۔دونوں صورتوں میں کون سی جائز ہے اور اس سے زیادہ اَنسب صورت جو ہو،تحریر فرمایا جائے۔ جواب:صورتِ مسئولہ میں مسجد مذکور کے سامان کا فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے اور عند الحنفیہ بقول مفتی بہ اس سامان کو دوسری مسجد پر دینا بھی جائز نہیں ہے،پس صورتِ مسئولہ میں مسجدِ مذکور کے سامان کو اسی مسجد پر بغیر فروخت کے صَرف کرنا چاہیے اور اگر بروقت مسجدِ مذکور پر اس سامان کے صَرف کرنے کی ضرورت نہ ہو تو اس کو محفوظ رکھنا چاہیے اور جب کبھی ضرورت پیش آئے تو اس وقت اس پر صَرف کرنا چاہیے۔اگر اس سامان کے ضائع و تلف ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں بقول بعض فقہائے حنفیہ اس سامان کا دوسری مسجد پر دے دینا جائز ہے اور ان بعض فقہائے حنفیہ کے اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے،جس میں اضاعتِ مال کی ممانعت آئی ہے۔[2] ہذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم،وعلمہ أتم۔ اَملاہ:محمد عبدالرحمن،عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ[3] نماز کے احکام و مسائل نمازِ ظہر اور نمازِ عصر کا وقت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید کہتا ہے کہ حدیث ’’ظل الرجل کطولہ‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ مرد کا سایہ بعد دلوک الشمس مشرق کی طرف شمار کرنا چاہیے،فے زوال کا قرآن و حدیث میں کہیں ذکر نہیں ہے،پھر اپنے اس قول کی تشریح بیان کرتا ہے۔تشریح یہ ہے کہ زید کہتا ہے کہ بعد دلوک شمس سوائے فے زوال کے ایک مثل مشرق کی جانب،یعنی پورب کی طرف ناپنا چاہیے،مثلاً:ایک لکڑی سیدھی کھڑی کی جائے،مثلاً:یہ لکڑی [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۸۶) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۹۱۴۰۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۷۱۵) [3] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری،(ص:۱۳۰)