کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 158
کیا مسجد کا متولی یا منتظم کسی مسلمان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک سکتا ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ مسجد میں متولی یا منتظم مسجد یا اہلِ محلہ دوسرے محلے کے مسلمانوں اہلِ سنت کو،خصوصاً جو لوگ نماز میں رفع الیدین اور آمین پکار کر اپنے رسول کا طریقہ سمجھ کر کرتے ہیں،ان کو اس فعلِ مذکور کے کرنے سے روک سکتے ہیں یا نہیں اور یہ لوگ آمین و رفع الیدین نماز میں کرنے والے مسجد میں نماز پڑھنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں اور رفع الیدین اور آمین پکار کر کہنے سے رفع الیدین نہ کرنے والوں اور آمین پکار کر نہ کہنے والوں کی نماز میں حرج آتا ہے یا نہیں ؟ جواب:در صورتِ مرقومہ معلوم کرنا چاہیے کہ مسجد کسی کی ملک نہیں ہے،اس میں کل مسلمانوں کا حق ہے اور سب نماز پڑھنے کے اس میں مجاز و مختار ہیں۔کوئی کسی کو روک نہیں سکتا،خواہ اس میں کوئی آمین رفع الیدین کرے یا نہ کرے،سب کا حق اس میں واسطے نماز کے متعلق ہے،علاوہ اس کے خود بانی مسجد کسی کو روک نہیں سکتا،پھر متولی اور منتظم وغیرہ کو کیا اختیار؟ اگر مسجد کا بانی اس ارادے سے مسجد تعمیر کرے کہ سوائے اہلِ محلہ کے دوسرے محلہ والے اس میں نماز نہ پڑھیں تو یہ ارادہ اس کا شرعاً لغو و باطل ہے،بلکہ اہلِ محلہ اور غیر اہلِ محلہ سب اس میں نماز پڑھنے کا اختیار رکھتے ہیں اور روکنا مسجد سے نمازی کو گناہ کبیرہ ہے اور اصرار پر کفر ہے،جیسا کہ نہایہ حاشیہ ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیری اور البحر الرائق وغیرہ میں مذکور ہے: وفي النھایۃ:’’وکان المتقدمون یکرھون شد المصاحف واتخاذ المشدۃ لھا،کیلا یکون ذلک في صورۃ المنع من قراء ۃ القرآن،فھذا مثلہ أو فوقہ،لأن المصحف ملک لصاحبہ،والمسجد لیس بملک لأحد‘‘ انتھی۔۔۔وأعجب من ذٰلک أنہ إذا غضب علی شخص یمنعہ من دخول المسجد خصوصاً بسبب أمر دنیوي،وھذا کلہ جھل عظیم،ولا یبعد أن یکون کبیرۃ،فقد قال اللّٰه تعالیٰ:{وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ} وما تلوناہ من الآیۃ السابقۃ فلا یجوز لأحد مطلقا أن یمنع مؤمنا من عبادۃ،یأتي بھا في المسجد،لأن المسجد ما بني إلا لھا من صلاۃ واعتکاف وذکر شرعي وتعلیم علم وتعلمہ وقراء ۃ القرآن‘‘[1] کذا في البحر الرائق۔ و في الھندیۃ:’’کما لو بنیٰ مسجدا لأھل محلۃ،وقال:جعلت ھذا المسجد لأھل ھذہ المحلۃ خاصۃ،کان لغیر أھل المحلۃ أن یصلي فیہ،ھکذا في الذخیرۃ‘‘[2] انتھیٰ ما في العالمگیریۃ وغیرھا۔ [1] البحر الرائق (۲/ ۳۶) [2] الفتاویٰ الھندیۃ (۲/ ۴۵۸)