کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 156
الخ‘‘ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جن احکام کو ناجائز فرمانا تھا،ناجائز فرمایا اور جن کو جائز فرمانا تھا،ان کو جائز فرمایا اور جن حکموں سے خاموشی کی ہے،تم مت کرید کرو،یعنی وہ معاف ہے،جیسا کہ مشکات (ص:۲۴) میں موجود ہے ابو ثعلبہ خشنی سے۔[1] اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ اﷲ اور رسول نے کہیں منع نہیں فرمایا کہ اوپر مسجد اور نیچے مکان کرایہ مصالح مسجد کے لیے نہ بنانا،بلکہ اﷲ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا ہے: { مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ} [الحج:۷۸] [اﷲ تعالیٰ نے تمھارے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا ہے:(( یسروا ولا تعسروا )) [2] الحدیث۔[آسانی کرو اور تنگی نہ کرو] یعنی عالموں کو چاہیے کہ جہاں کہیں اﷲ تعالیٰ اور رسول نے سختی نہیں فرمائی،تنگی نہ کریں،بلکہ آسانی کا فتویٰ دیں دلائیں۔ اب ہر شخص ذی فہم بتا سکتا ہے کہ اس مسجد کے جواز میں مشتری مکان مذکور کے لیے آسانی ہے یا تنگی؟ نیز احادیثِ صحیحہ میں اِضاعتِ مال سے ممانعت وارد ہوئی ہے،اب ہر شخص ذی شعور بتا سکتا ہے کہ مسجد مذکور فی السوال کے عدمِ جواز میں اضاعتِ مال ہے یا نہ؟ غرض کہ ان احادیث و آیات کے رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد مذکور فی السوال مسجد ہی کے حکم میں ہے اور نیچے کا مکان کرائے پر دینا واسطے مصالح مسجد مذکور کے جائز و درست ہے۔تفسیر کبیر میں تحت آیت { فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ۔۔۔} [النساء:۶۵] [تیرے رب کی قسم! جب تک آپ کو حاکم نہیں بنائیں گے ان کو ایمان نصیب نہ ہوگا] کے لکھا ہے کہ عموماتِ کتاب اور سنت مقدم ہوتے ہیں عموماتِ قیاس پر۔[3] واللّٰه أعلم و علمہ أتم وأحکم۔حررہ العاجز أبو محمد عبدالوہاب الملتاني نزیل الدھلي۔تجاوز اللّٰه عن ذنبہ الخفي والجلي۔في أوائل شھر جمادی الأولیٰ من ۱۳۱۹ھ علی صاحبھا أفضل صلاۃ وأزکی تحیۃ،اللّٰهم ارزقني علماً نافعاً والعمل بما تحب وترضیٰ۔ سید محمد نذیر حسین ہوالموافق صورتِ مسئولہ میں اگر مشتری نے نیچے کی منزل کو مصالح مسجد کے واسطے وقف کر دیا ہے اور اپنا کوئی تعلق باقی نہیں رکھا ہے تو بے شک وہ مسجد،مسجد کے حکم میں ہے،اس واسطے کہ اس مسجد کے مسجد نہ ہونے کی کوئی دلیل شرعی [1] سنن الدارقطني (۴/ ۱۸۳) اس کی سند ضعیف ہے،کیوں کہ اس کی سند میں انقطاع ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:جامع التحصیل (ص:۲۸۵) غایۃ المرام للألباني (۴) البتہ اس معنی میں ایک صحیح حدیث سنن ابی داود (۳۸۰۰) میں مروی ہے۔ [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۷۳۴) [3] التفسیر الکبیر (۱۰/ ۱۲۴)