کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 155
چناں چہ وہ دوبارہ میراث بنے گی نہ اس کو نقل کرنا ہی جائز ہے اور نہ اس کے مال کو کسی دوسری مسجد کی طرف منتقل کرنا درست ہے،خواہ وہ اس میں نماز پڑھیں یا نہیں اور یہی فتویٰ ہے۔اسی پر اکثر مشائخ ہیں اور یہی زیادہ قوی ہے] املاہ:محمد عبد الرحمن،عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ۔[1] مسجد کے مصالح کے لیے پہلی منزل کو مکان بنا کر کرائے پر دینا: سوال:کیا فرماتے ہیں کہ علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک شخص نے کچھ زمین مسجد کے واسطے خریدی۔پہلے سے اس زمین میں دو منزلہ مکان بنا ہوا تھا۔مشتری اوپر کی منزل کو مسجد اور نیچے کی منزل کو کرائے پر واسطے خرچ مسجد کے دینا چاہتا ہے،اس صورت میں مسجد،مسجد کا حکم رکھے گی اور مکان کرایہ پر دینا جائز ہوگا یا نہیں ؟ جواب:صورِت مرقومہ بالا میں معلوم کرنا چاہیے کہ کتاب اﷲ اور سنتِ رسول اﷲ کی تعلیم کی رو سے صورت مسئول عنہا جائز و درست معلوم ہوتی ہے اور یہ مسجد مسجد کا حکم رکھے گی اور مکان مسجد کے مصالح کے لیے کرائے پر دینا جائز ہوگا،تاکہ مسجد کی درستی رہے اور ہمیشہ آباد رہے،اس کے اخراجات ضروریہ کے لیے آمدنی کی صورت نکالنا درست و جائز ہے،جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خادم مسجد نبوی کے آرام کے لیے مسجدِ نبوی میں،یعنی نہ کنارے میں نہ ادھر نہ ادھر،بلکہ اندرون مسجد کے ایک حجرہ بنایا تھا اور اس کا رہنا سہنا وہاں ہی ہوتا تھا،جیسا کہ صحیح بخاری (ص:۶۳) میں موجود ہے۔نیز صحیح بخاری (ص:۶۶) میں موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں بعض لوگوں کے فائدے کے لیے خیمہ لگوا دیا،وہ اس میں مدت تک رہے۔[2] غرض کہ اندرون مسجد یا تحت مسجد یا بالائے مسجد میں کوئی مکان بنانا مصالح مساجد کے لیے درست و جائز ہے۔وہ مکان مسجد کو مسجد کے حکم سے خارج نہ کرے گا،جیسا کہ یہ دونوں حدیثیں دلالت کرتی ہیں اور یہ بھی حکم خدا و رسول ہے کہ جہاں خاص حکم شرعی نہ ہو،وہاں عام حکم شرعی سے استدلال کرنا جائز ہے،جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کتبِ حدیث میں اور خاص کر بخاری کے صفحہ (۱۰۹۳) میں موجود ہے: ’’سئل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن الحمر فقال:(( مَا أَنْزَلَ اللّٰه عَلَيَّ فِیْھَا إِلاَّ ھَذِہِ الْآیَۃُ الْجَامِعَۃُ:{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔۔۔} الآیۃ )) [3] [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کے لیے کوئی الگ حکم تو مجھ پر نازل نہیں ہوا،بس یہ آیت جامع موجود ہے:جو ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کرے گا،اس کو دیکھ لے گا۔۔۔] اس حدیث پر امام بخاری رحمہ اللہ نے باب یوں منعقد کیا ہے:’’باب الأحکام التي تعرف بالدلائل۔۔۔ [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۱۲۹) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۲۸۔۴۳۱) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۴۴۶)