کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 154
ادب و احترام ہمیشہ کے لیے واجب ہے،نہ اُس میں جنب اور حائض و نفساء کا داخل ہونا جائز ہے اور نہ اس زمین پر یا اس کے کسی حصے پر دُکان تعمیر کرنا جائز ہے۔اگرچہ یہ دکان اس غرض سے تعمیر کرائی جائے کہ اس کی آمدنی سے اس دکان کے اوپر مسجد بنائی جائے اور اس مسجد کے اخراجات مرمت،صفائی،چراغ بتی اور پانی وغیرہ کے لیے مستقل صورت پیدا ہو جائے۔فقہائے حنفیہ کے نزدیک بھی یہی اصح ہے اور یہی مفتی بہ ہے۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’وإذا خرب المسجد واستغنیٰ أھلہ و صار بحیث لا یصلیٰ فیہ،عاد ملکا لواقفہ أو لورثتہ حتی جاز لھم أن یبیعوہ أو یبنوہ دارا،وقیل:ھو مسجد أبداً،وھو الأصح،کذا في خزانۃ المفتین‘‘[1] [جب مسجد ویران ہوجائے اور وہاں رہنے والے اس سے بے نیاز ہوجائیں کہ وہاں نماز بھی نہیں پڑھی جاتی تو وہ اس کو وقف کرنے والے یا اس کے ورثا کی دوبارہ ملکیت بن جائے گی،حتی کہ ان کے لیے اسے بیچنا یا اسے گھر بنانا جائز ہوگا،لیکن ایک قول کے مطابق وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہی رہے گی اور یہی زیادہ صحیح ہے،جیسا کہ ’’خزانۃ المفتین‘‘ میں ہے] در مختار میں ہے: ’’(ولو خرب ما حولہ،واستغنیٰ عنہ،یبقی مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلیٰ قیام الساعۃ (وبہ یفتیٰ) حاوی القدسي‘‘ انتھیٰ[2] [اگر اس (مسجد) کے اردگرد ویراں ہوجائے اور لوگ اس سے بے پروا ہو جائیں تو وہ ہمیشہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی اور اسی پر فتویٰ ہے] ’’رد المحتار‘‘ (۳/ ۵۱۳) میں ہے: ’’(قولہ:ولو خرب ما حولہ) أي ولو مع بقائہ عامرا،وکذا لو خرب،ولیس لہ ما یعمر بہ،وقد استغنی الناس عنہ لبناء مسجد آخر،(قولہ:عند الإمام والثاني) فلا یعود میراثا،ولا یجوز نقلہ،ونقل مالہ إلی مسجد آخر،سواء کانوا یصلون فیہ أو لا،وھو الفتوی۔حاوی القدسي۔وأکثر المشائخ علیہ۔مجتبی۔وھو الأوجہ۔فتح انتھیٰ بحر‘‘ واللّٰه تعالیٰ أعلم [اس کے قول ’’اگر اس کے اردگرد کا علاقہ ویران ہوجائے‘‘ کا مطلب ہے کہ اگرچہ وہ (مسجد) اس ویرانی کے باوجود آباد رہے۔اسی طرح اگر وہ ویران ہوجائے اور مسجد کو آباد کرنے کی کوئی صورت بھی نہ ہو اور کسی دوسری مسجد کے بننے کی و جہ سے لوگ اس سے بے پروا ہوجائیں۔اس کا قول ’’امام اور دوم کے نزدیک‘‘ [1] فتاویٰ عالمگیري (۲/۴۵۸) [2] الدر المختار مع رد المختار (۴/۳۵۵)