کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 153
اقدس او نسبتے است قابل آن است کہ بوئے تقرب بجناب عزت او توان کرد،وحرام کہ ضد او است قابل آن نہ بود‘‘[1] انتھیٰ [جب اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور رزقِ حلال کو،اس کے حرمتِ غلاظت سے پاک ہونے کے سبب،جب جنابِ اقدس کے ساتھ اس کی نسبت ہے تو وہ اس قابل ہے کہ وہ اس جنابِ عزت کی بوئے تقرب پا سکے اور حرام جو اس کی ضد ہے،وہ اس قابل نہیں ہے] واللّٰه تعالیٰ أعلم،حررہ:محمد عبد الحق ملتانی،عفی عنہ۔سید محمد نذیر حسین ہوالموافق کسی زمین کا مسجد ہونا یا مسجد میں شامل ہونا موقوف ہے اس کے وقف ہونے پر اور اس کا وقف ہونا موقوف ہے ملک پر،اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ زید نے جو زمین مرہونہ مرتہن سے زبردستی کر کے مسجد میں شامل کر لی ہے،وہ وقف نہیں ہے،کیونکہ اس کا مالک زید نہیں ہے،بلکہ اس کا اصل مالک دوسرا شخص ہے،جو موجود نہیں ہے،بنا بریں وہ زمین مغصوبہ شامل مسجد نہیں ہوسکتی۔ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] مسجد کے اخراجات کے لیے ا س کی جگہ میں دکانیں تعمیر کرنا: سوال:ایک مسجد پختہ اب سٹرک شہر میں واقع ہے۔بالکل غیر آباد اور بوسیدہ حالت میں ہوگئی ہے،اس کے چراغ بتی اور نیز مرمت وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ایسی صورت میں اس کے بقا اور استحکام کا خیال کرتے ہوئے اگر لب سڑک دکان تعمیر کر دی جائیں اور اوپر مسجد کا حصہ کر دیا جائے،تاکہ دکان کی آمدنی سے مسجد کے اخراجات مرمت،صفائی،چراغ بتی اور پانی وغیرہ کے لیے ایک مستقل صورت پیدا ہوجائے۔اس کی چھت وغیرہ بالکل مسمار ہوگئی ہے،باہر کی دیوار کھڑی ہے،اندر تمام گھاس جم گئی ہے،بالکل خراب و خستہ حالت میں ہے۔اگر شرعاً اجازت ہو تو نیچے کا حصہ دکان میں شامل کر دیا جائے اور اوپر کا حصہ مسجد میں کر دیا جائے،یعنی اوپر مسجد اور اس کے نیچے دکان تعمیر کرا دی جائے تو ایسی صورت میں شرعاً اجازت ہے یا نہیں ؟ فقط شیخ محمد شبلی،شیخ علی حسن،شیخ محمد حمید اﷲ،شیخ محمد جنید،عبد المجید،شیخ محمد امانت اﷲ۔ساکنان محلہ آصف گنج شہر اعظم،بقلم عبد المجید (مورخہ ۱۱/ اگست ۱۹۳۴ء) جواب:صورتِ مسئولہ میں مسجد مذکور کی زمین پر یا اس کے کسی حصے پر دکان تعمیر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،کیونکہ جب کوئی زمین ایک بار مسجد قرار پا چکی تو اب وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہوگئی،اس کا مسجد ہونا کبھی باطل نہیں ہو سکتا اور اس جگہ کا [1] أشعۃ اللمعات (۳/ ۳) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۶۲)