کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 152
مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَّعِشْرِیْنَ صَلاَۃً،وَصَلاَتُہُ فِيْ الْمَسْجِدِ الَّذِيْ یُجَمَّعُ فِیْہِ بِخَمْسِ مِائَۃِ صَلاَۃٍ )) [1] (رواہ ابن ماجہ) [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آدمی کی اپنے گھر میں نماز ایک نماز ہے اور محلے کی مسجد میں پچیس نمازیں ہیں اور جامع مسجد میں ایک نماز پانچ سو نمازیں ہیں ] واللّٰه تعالیٰ أعلم،عبد الرحیم،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین ہو الموافق فقہائے حنفیہ نے تصریح کی ہے کہ مسجد قدیم افضل ہے مسجد جدید سے۔در مختار میں ہے: ’’أفضل المساجد مکۃ،ثم المدینۃ،ثم القدس،ثم قباء،ثم الأقدم،ثم الأعظم،ثم الأقرب‘‘[2] انتھی [سب سے افضل مسجد خانہ کعبہ ہے،پھر مسجد نبوی،پھر بیت المقدس،پھر سب سے قدیمی،پھر سب سے بڑی،پھر سب سے قریب] واللّٰه تعالیٰ أعلم،کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] غصب شدہ زمین کو مسجد میں داخل کرنے کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے زمین مرہونہ مرتہن سے زبردستی کر کے مسجد میں شامل کر لی۔زمین مذکور کا اصل مالک موجود نہیں ہے۔اب وہ زمین ازروئے شرع شریف شامل مسجد ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ جواب اس کا قرآن و حدیث سے عطا فرما دیں۔ جواب:وہ زمین شرعاً شامل مسجد نہیں ہوسکتی اور اگر شامل کی جائے گی تو وہ زمین مسجد کے حکم میں ہر گز نہیں ہوگی۔حدیث شریف میں آیا ہے:((إِنَّ اللّٰه طَیِّبٌ لاَ یَقْبَلُ إِلاَّ طَیِّباً )) [4] (رواہ مسلم) [اﷲ خود بھی پاک ہے اور پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے] شیخ عبدالحق دہلوی شرح مشکاۃ میں فرماتے ہیں: ’’چوں وے تعالیٰ پاک است و رزق حلال را بسبب پاک بودن او از چرک حرمت،چون بجناب [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۴۱۳) اس کی سند میں ایک راوی ’’ابو الخطاب دمشقی‘‘ مجہول ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث سخت منکر ہے۔دیکھیں:تمام المنۃ للألباني (ص:۵۸۱) [2] الدر المختار (۱/ ۶۵۹) [3] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۵۸) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۰۱۵)