کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 147
قالہ القاري من أن المحاریب من المحدثات بعدہ صلی اللّٰه علیہ وسلم فیہ نظر،لأن وجود المحراب زمن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یثبت من بعض الروایات۔أخرج البیھقي في السنن الکبریٰ من طریق سعید بن عبد الجبار بن وائل عن أبیہ عن أمہ عن وائل بن حجر،قال:حضرت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم حین نھض إلی المسجد فدخل المحراب،ثم رفع یدیہ بالتکبیر‘‘[1] (الحدیث) [میں کہتا ہوں کہ ملا علی قاری کا یہ کہنا:’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد محرابوں کا بنانا محدثات سے ہے‘‘ محلِ نظر ہے،کیوں کہ بعض روایات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں محراب کا وجود ثابت ہے،چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن الکبری میں سعید بن عبدالجبار بن وائل عن ابیہ عن امہ عن وائل بن حجر کے واسطے سے بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں:میں اس وقت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف اٹھے تو محراب میں داخل ہوئے،پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ بلند کیے] پھر لکھتے ہیں: ’’وبني في المساجد المحاریب من لدن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،انتھی،وأیضاً لا یکرہ الصلاۃ في المحاریب ومن ذھب إلی الکراھۃ فعلیہ البینۃ،ولا یسمع کلام أحد من غیر دلیل ولا برھان‘‘ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر مساجد کے محراب بنائے جاتے رہے،انتھیٰ نیز محرابوں میں نماز ادا کرنا مکروہ نہیں ہے،جو مکروہ کہتا ہے اس کے ذمے اس کی دلیل پیش کرنا ہے،اس لیے کہ بلا دلیل و برہان کسی کا کلام سنا نہیں جاتا] بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نہیں تھے،جیسا کہ تفسیر فتح البیان (۲/ ۳۷) میں ہے: ’’وقد أخرج الطبراني والبیھقي عن ابن عمر أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:اتقوا ھذہ المذابح۔۔۔إلی۔۔۔عن جماعۃ من الصحابۃ‘‘[2] [امام طبرانی اور بیہقی رحمہم اللہ نے عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ بلاشبہہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ان مذابح یعنی محرابوں سے بچو۔۔۔الخ] مجمع الزوائد (۱/ ۴۸) میں ہے: ’’باب الصلاۃ في المحراب،وما جاء فیہ عن عبد اللّٰه۔یعنی ابن مسعود۔أنہ کرہ الصلاۃ في المحراب،وقال:إنما کانت لکنائس،فلا تشبھوا بأھل الکتاب،یعني أنہ کرہ الصلاۃ في الطاق‘‘ (رواہ البزار ورجالہ موثقون) [1] السنن الکبریٰ للبیھقي (۲/ ۳۰) [2] السنن الکبریٰ (۲/ ۴۳۹)