کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 146
کے موافق فتاویٰ مذہبِ اہلِ سنت و جماعت کے شرعاً درست ہوا یا نہیں ؟ جواب:جب صحن متنازع فیہ اندر حدود اراضی مسجد واقع ہے تو وہ بھی شمولِ مسجد داخل وقف ہے،جس میں کسی شخص کو ملکیت کا حق حاصل نہیں ہے اور جملہ مسلمانان کا حق اس میں یکساں اور برابر ہے۔حجرہ بھی جب مسلمانوں کے چندہ و رضا مندی سے اندر حدود اراضی مسجد کے تعمیر ہوا ہے تو حجرے میں بھی ان تمام مسلمانوں کا حق ثابت ہے تو اب بلا رضا مندی جو شخص صحن مسجد مذکور کی نسبت ملکیت کا دعویٰ کرے یا حجرہ مذکورہ کو بلا رضا مندی ان تمام مسلمانوں کے گرائے یا گرانے کی کوشش کرے،وہ شخص شرع شریف کی رو سے بے شبہہ ظالم ہے،اس شخص کے مقابلے میں صحن و حجرہ کے بچانے کے واسطے مسلمانوں کو چندہ دینا اور مدد کرنا واجب ہے۔ فتاویٰ عالمگیری (۲/ ۵۵۰ چھاپہ ہو گلی) میں لکھا ہے: ’’رجل أعطیٰ درھما في عمارۃ المسجد أو نفقۃ المسجد أو لمصالح المسجد صح،لأنہ وإن کان لا یمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فإثبات الملک للمسجد علیٰ ھذا الوجہ صحیح،فیتم بالقبض،کذا في الواقعات الحسامیۃ‘‘ اھ [ایک شخص نے مسجد کی تعمیر یا مسجد کے اخراجات یا مسجد کی ضرورت اور فائدے کے لیے ایک درہم دیا تو وہ درست ہے،کیوں کہ اگرچہ مسجد کو ہبہ کر کے اس کی ملکیت قرار دینا درست نہیں،لیکن اس طریقے سے مسجد کی ملکیت ثابت کرنا درست ہے،چناں چہ وہ قبضے میں لے کر پوری ہوجاتی ہے] نیز صفحہ(۵۵۰) میں کہا ہے: ’’الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد،کذا في محیط السرخسي‘‘ اھ واللّٰه أعلم بالصواب۔ [صحن مسجد کے تابع ہے،چناں چہ اس کا حکم بھی مسجد ہی کا حکم ہے] کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔صح الجواب،واللّٰه أعلم بالصواب۔کتبہ:أبو الفیاض محمد عبد القادر الأعظم گڑھي المؤي۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔[1] کیا عہدِ نبوی میں مسجد میں محراب موجود تھے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ محراب مروّجہ جو مسجدوں میں موجود ہیں اور ان کے سبب سے ایک صف کی جگہ نکل آتی ہے،آیا یہ عصرِ نبوی میں موجود تھے یا نہیں ؟ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ موجود تھے،جیسا کہ عون المعبود شرح ابو داود (۱/ ۱۸۰) میں ہے:’’قلت:ما [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۱۲۵)