کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 145
الأعظم گڑھي۔صح الجواب بلا ارتیاب،واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ راجي رحمۃ اللّٰه:أبو الہدیٰ سلامت اللّٰه المبارکفوري،عفا عنہ الباري۔[1] مسجد کے متنازع صحن کا حکم: سوال:ایک مسجد قدیم کہنہ بوسیدہ قناطی موقوعہ محلہ بلوا گھاٹ من محلات چنار گڑھ تھی،اندر حدودِ ارض مسجد مذکور پورب جانب ایک حجرہ خام بنوا کر شیخ اکبر عرف حاجی بنیس نے بود و باش اختیار کر کے ہر طرح سے آباد کیا اور اشخاص اہلِ اسلام سنت و جماعت نمازِ پنج گانہ ادا کرنے لگے۔بعد کئی سال بوجہ بارش و طغیانی دریا حجرہ وغیرہ و دیوار احاطہ مسجد گر گیا،چونکہ حاجی موصوف آدمی صدسالہ عابد پابند صوم و صلاۃ بہمہ صفت متقی پرہیزگار تھے،کمر ہمت بستہ کارِ خیرِ دارین سمجھ کر از سرِ نو چھت و حجرہ و چہار دیواری وغیرہ برجائے قدیم اندر حدودِ ارض مسجد مسلمانوں سے چندہ تحصیل کر کے پختہ عرصہ چار برس کا تیار کرایا۔ چار برس تک کوئی شخص مزاحم نہ ہوا،چونکہ مسجد کی جانب دکھن کسی قدر زمین ایک شخص سنت و جماعت کی ہے،جو بہت بڑے متدین اور سادات سے ہیں اور اپنی حکومت کے زمانے میں بہت ہی ذہانت سے کام کرتے رہے،یہاں تک کہ سود کی ڈگری بھی کرنا روا نہیں رکھتے تھے،انھوں نے اپنی بیٹی کا عقد ایک شخص خلافِ مذہب،جس کا بیان کافی کتاب الروضہ کے صفحہ (۱۶) میں مرقوم ہے،کر دیا،اس کی تاثیرِ صحبت سے اس قدر اثر ہوا کہ لوگوں کی اراضیات بھی،یعنی کھیت بھوگ بندہک لکھا ہے۔ ما ورا اس کے ان کے داماد صاحب نے بوجہ تعصب و نکالنے بغض قلبی سنیوں سے کیا شگوفہ کہ زمین حجرہ و صحن مسجد ہمارے خسر کی ہے،لوگوں سے کہنے لگا کہ حاجی پر جوٹ سالانہ اسٹامپ لکھ دے اور سال بسال ادا کیا کرے،ورنہ زمین صحن و زمین حجرہ گروا کر لے لوں گا،حتی کہ حاجی سے نوبت گفت و شنید کی آئی۔حاجی نے کہا کہ خدا خانہ ہے،میرا گھر نہیں ہے،دوسرے نہ تمھاری زمین و نہ خسر کی تمھاری زمین کہتے کیا ہو۔بالفرض اگر زمین آپ کی تھی تو وقت بننے کے دو روپیہ چندہ اور پتھر وغیرہ سے مدد دیا تو گویا ان کی رضا مندی سے حجرہ اور چہار دیواری وغیرہ بنوائی گئی،پھر اب دعویٰ آپ کا لغو ہے،اس بات پر ان کے خسر صاحب جو اپنے کو سنت و جماعت کہتے ہیں،اپنے داماد کی تائید و حمایت کر کے صحن مسجد و حجرہ گرا کر زمین لینے کا دعویٰ عدالت دیوانی میں کر دیا ہے،باوجود اس کے کہ ان کی بیٹی کا انتقال بھی عرصہ پانچ چھے برس کا ہوا ہو گیا،مگر وہ اس کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور ہر ایک امر میں اس کا کہنا مقدم اور نیک جانتے ہیں۔ایسی حالت میں شہر کے مسلمانوں کو چندہ دینا و مدد کرنا حجرہ و صحن بچانے کے واسطے واجب ہے یا نہیں اور وہ شخص شرع شریف کے بموجب ظالم ٹھہرے گا یا نہیں اور نکاح ان کی لڑکی مومنہ صالحہ کا ساتھ فاسق و قاسط [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۱۲۳)