کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 144
ہیں تو بانی مسجد پر لازم ہے کہ مسجد جدید میں جمعہ کی نماز قائم نہ کرے،بلکہ اس کو اُٹھا دے۔تعمیلِ معاہدہ و ایفائے وعدہ واجب ہے،چنانچہ اس کی سخت تاکید قرآن مجید و حدیث شریف میں وارد ہے۔قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: {یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ} (سورۂ مائدہ رکوع:۱) [اے لوگو جو ایمان لائے ہو! عہد پورے کرو] {وَ اَوْفُوْا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا} (سورۃ بني إسرائیل،رکوع:۴) [اور عہد کو پورا کرو،بے شک عہد کا سوال ہوگا] حدیث شریف میں آیا ہے: عن عبد اللّٰه بن عمر قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( أَرْبعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقاً خَالِصاً،وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃً مِنْھُنَّ،کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتیّٰ یَدَعَھَا:إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ،وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ،وَإِذَا عَاھَدَ غَدَرَ،وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ )) (متفق علیہ) [1] [عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص میں چارخصلتیں ہوں،وہ خالص (پکا) منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے،حتی کہ وہ اسے ترک کر دے۔جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے،جب بات کرے جھوٹ بولے،جب عہد کرے تو عہد شکنی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے] وعن عبد اللّٰه بن عامر قال:دعتني أمي یوما،ورسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قاعد في بیتنا،فقالت:ھا تعال أعطیک،فقال لھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( مَا أَرْدْتِّ أَنْ تُعْطِیَہُ؟ )) قالت:أردت أن أعطیہ تمرا،فقال لھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( أَمَّا إِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطِیْہِ شَیْئاً،کُتِبَتْ عَلَیْکَ کَذِبَۃٌ )) (رواہ أبو داود،و البیھقي في شعب الإیمان،کذا في المشکوۃ،في باب الوعد) [2] [عبداﷲ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک روز میری والدہ نے مجھے بلایا،جب کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے،میری والدہ نے فرمایا:سنو! آؤ میں تمھیں کچھ دوں گی۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا:تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انھوں نے عرض کی:میں نے اسے ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سن لو! اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمھارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا] اگر بانی مسجد اس معاہدے کی تعمیل نہ کرے تو ضرور عاصی ہوگا اور جو لوگ اس کام میں اس کا ساتھ دیں گے،وہ بھی مبتلائے عصیان ہوں گے۔ فقط۔کتبہ:أبو الفیاض محمد عبد القادر الأعظم گڑھی المؤی،وارد حال مدرسہ احمدیہ آرہ۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۳۲۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۵۸) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۹۹۱) مسند أحمد (۳/۴۴۷)