کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 143
جائے،یا جو لوگ اﷲ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہے ہوں،ان کے لیے وہ گھات بنے تو اس مسجد میں نماز پڑھنی جائز نہیں ہے اور نہ ایسی مسجد شرعاً مسجد کا حکم رکھتی ہے۔ سورۃ توبہ رکوع (۱۳) میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی وَ اللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ . لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ} [التوبۃ:۱۰۷،۱۰۸] [اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے اور کفر کرنے (کے لیے) اور ایمان والوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے (کے لیے) اور ایسے لوگوں کے لیے گھات کی جگہ بنانے کے لیے جنھوں نے اس سے پہلے اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور یقینا وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا ارادہ نہیں کیا اور اﷲ شہادت دیتا ہے کہ بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔اس میں کبھی کھڑے نہ ہونا۔یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوے پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو] واﷲ أعلم بالصواب کتبہ:محمد عبداللّٰه۔إنہ لحق۔أبو العلی محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔صح الجواب،واللّٰه أعلم بالصواب،کتبہ:أبو الفیاض محمد بن عبد القادر الأعظم گڈھی المئوي۔[1] عہد و پیمان توڑ کر نئی مسجد میں جمعہ کا آغاز کرنا: سوال:ایک بلدہ میں ایک قدیم جامع مسجد ہے۔جمیع مسلمین اس مسجد قدیم میں پنج گانہ نماز اور جمعہ ہمیشہ سے پڑھتے چلے آتے ہیں،بالاتفاق و مجمع علیہ۔ایک شخص نے ایک مسجد جدید تیار کی اور اس نے اقرار صحیح و وعدہ واثق بھی کیا کہ اس مسجد جدید میں پنج گانہ نماز کے سوا جمعہ نہ پڑھا جائے۔اقرار اور وعدہ لینے کی وجہ یہ ہوئی کہ مسجد جامع قدیم میں ہمیشہ جمعہ پڑھا جاتا ہے،اس میں ایسا نہ ہو کہ خلل اتفاق مجمع علیہ کا ہو،اُسی قرار بموجب نئی مسجد میں چھے سال تک لوگ پنج گانہ نماز فقط پڑھتے رہے۔اب چند روز سے خلافِ اقرار صحیح و خلاف وعدہ واثق کے جمعہ پڑھنا شروع کیا ہے،تو دریں صورت بلدہ میں بہت سے مسلمان اس امر سے ناخوش ہیں کہ ایسا اقرار و وعدہ توڑ دیا،سو اس میں فتنہ عظیم و فساد برملا ہو رہا ہے۔اس میں دو ٹکڑیاں ہوگئی ہیں،ایک ٹکڑی چھوٹی،ایک ٹکڑی بڑی کہ ’’اتبعوا السواد الأعظم‘‘ کا خلاف ہے۔بینوا توجروا۔ جواب:در صورت صدقِ صورت مسئولہ جبکہ بانی مسجدنےتمام مسلمین کے روبرو اس امر کا معاہدہ کیا کہ مسجد جدید میں بلا حکم اہلِ شہر و بدون اجازت سب صاحبوں کے جمعہ قائم نہ کیاجائے گا اور اہلِ شہرمسجدجدیدمیں جمعہ قائم کرنے پر راضی نہیں [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۱۱۲)