کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 142
ان دونوں صورتوں میں اس کا بنانا جائز نہیں ہے۔ایسی مسجد،مسجدِ ضرار ہے،کیونکہ بلا وجہ شرعی جماعت مسلمان میں تفریق کرنا ہے۔اﷲ تعالیٰ سورہ توبہ،رکوع (۱۲) میں فرماتا ہے: {وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ۔۔۔} [التوبۃ:۱۰۷] [اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے اور کفر کرنے (کے لیے) اور ایمان والوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے (کے لیے) اور ایسے لوگوں کے لیے گھات کی جگہ بنانے کے لیے جنھوں نے اس سے پہلے اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کی] باقی تعزیہ داری کی مجلس کرنی،خواہ چھوٹی ہو یا بڑی،گھر میں ہو یا مسجد میں،محض ناجائز ہے،اس کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے اور نہ حدیث شریف سے۔یہ جاہلوں کی ایجاد ہے۔اﷲ کے بندوں کو قرآن مجید اور حدیث پر عمل کرنا چاہیے،نہ کہ جاہلوں کی ایجاد کی ہوئی باتوں پر جن کا ثبوت شرع شریف سے نہیں ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:أبو الفیاض محمد عبد القادر،عفي عنہ۔الجواب صحیح۔أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔[1] اختلاف کی صورت میں الگ مسجد بنانے کا حکم: سوال:ایک پرانی مسجد میں محمدی اور حنفی دونوں فریق مدت دراز سے ایک ساتھ مل کر نماز پڑھا کرتے تھے،لیکن اب بعض ان میں سے جو حنفی ہیں،باشتعال پیر اپنے کے (کہ محمدی لوگ لا مذہب ہیں اور لامذہبوں کے پیچھے نماز درست نہیں،ایک نئی مسجد بنانی چاہیے کہ جس میں محمدیوں کی جماعت کم و کمزور ہو جائے اور ہماری حنفی جماعت رفتہ رفتہ ترقی پائے اس ارادے سے) ایک نئی مسجد بنائی ہے اور بانی و متولی اس نئی مسجد کا ایک متمول شخص ہے،جو محمدی جماعت کو توڑنے کے لیے کمزور محمدیوں کو ورغلا رہا ہے اور جن محمدیوں سے اس کی لین دَین ہے اور جو لوگ اس کی رعیت ہیں،ان پر اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تنبیہ اور سختی کر رہا ہے،ان صورتوں میں اس نئی مسجد میں نماز پڑھنی شرعاً جائز ہے یا نہیں اور اس مسجد کا کیا حکم ہے اور اس صفت کے مفرقینِ جماعت اور اس مسجد کے مصلیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا،کھانا پینا،سلام مصافحہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:جب ایک مسجد خوش نیتی سے بن چکی ہو،جس میں جماعت قائم ہو اور مسلمانان اس میں خدائے تعالیٰ کی عبادت میں مل جل کر مشغول رہے ہوں،اس کے بعد پھر کوئی دوسری مسجد اس غرض سے بنائی جائے کہ مسلمانوں کو اس سے ضرر پہنچایا جائے یا اس میں کفر کے کام کیے جائیں یا مسلمانوں کی جماعت متفرق کی [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۱۱۱)