کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 139
اجتہاد کو دخل ہو،صحابی کا وہ فعل مرفوع حکمی نہیں کہلا سکتا۔ باقی رہا قیاس کا مسئلہ کہ جب موزے پر مسح جائز ہے تو قیاساً جراب پر بھی جائز ہونا چاہیے،کیوں کہ ان دونوں میں کوئی فرق موثر نہیں ہے،اس پر شبہہ یہ ہے کہ اگر مسح موزے کی کوئی علت منصوص ہوتی تو اس علت کی بنا پر جراب کے مسح کو اس پر قیاس کر لیا جاتا،لیکن یہاں کوئی علت منصوص نہیں ہے۔ممکن ہے ہم کوئی اور علت سمجھیں اور حقیقت میں کوئی اور ہو۔اگر سوال کیا جائے کہ صحابہ کی شان اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کریں تو آخر کسی دلیل کی بنا پر ہی صحابہ نے جراب پر مسح کیا ہوگا،اگرچہ وہ ہم کو معلوم نہیں تو ہم بھی اسی وجہ سے مسح کر لیں گے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر صحابہ سے کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ کہاں ہے؟ کیسی ہے؟ جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوجائے،ہم قرآن اور متواتر حدیث کے مضمون کو کیوں چھوڑ دیں اور اگر صحابہ کے فعل سے استدلال کیا جائے تو اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے کہ اس میں اجتہاد کو دخل ہے اور پھر یہ بھی تو معلوم نہیں کہ صحابہ کون سی جراب پر مسح کیا کرتے تھے؟ جب تک ان تمام باتوں کی وضاحت نہ ہوجائے،ہم کتاب اﷲ کے مضمون کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔واللّٰه أعلم] کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین  [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۲۶)