کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 132
رخصۃ،فھل الرخص الشرعیۃ موقوفۃ علی بیان الشارع صلی اللّٰه علیہ وسلم أم لا؟ ولیکن الجواب مفصلا مع ما لہ وما علیہ،فقط۔ [کیا فرماتے ہیں علماے دین کہ اونی یا سوتی جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں جو موٹی ہوں نہ نعل زدہ؟ یہ تو معلوم ہے کہ جرابوں پر مسح کرنے کی حدیث ضعیف ہے اور امام ترمذی نے جو اس کو صحیح کہا ہے،محدثین نے اسے قبول نہیں کیا اور اگر موزوں کے مسح پر اس کو علتِ مشترکہ کی بنا پر قیاس کیا جائے تو اس سے فرض غسل جو قرآن سے ثابت ہے،ساقط ہوجائے گا یا نہیں ؟ اور ائمہ نے جو جراب کے لیے موٹا ہونے اور پانی کے نفود نہ کرنے کی قید لگائی ہے تو کیا اس سے زیادہ کسی اور علت کا بھی اضافہ ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ پاؤں کا دھونا فرض ہے اور موزے پر مسح رخصت ہے۔کیا رخصت شرعیہ شارع کے بیان پر موقوف ہے یا نہیں ؟ جواب مفصل عنایت فرمائیں ] جواب:المسح علیٰ الجوربۃ المذکورۃ لیس بجائز،لأنہ لم یقم علیٰ جوازہ دلیل،وکل ما تمسک بہ المجوزون ففیہ خدشۃ ظاھرۃ،ومتمسکاتھم ثلاث:الحدیث المرفوع،وأفعال الصحابۃ رضی اللّٰه عنہم،والقیاس۔ أما الحدیث المرفوع فھو ما رواہ الترمذي وغیرہ عن المغیرۃ بن شعبۃ قال:توضأ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم،و مسح علی الجوربین والنعلین۔[1] قال الترمذي:ھذا حدیث حسن صحیح،وأما الخدشۃ في الاستدلال بہ فھي إن ھذا الحدیث ضعیف،لا یصح الاستدلال بہ۔قال أبو داود بعد روایتہ:کان عبد الرحمن بن مھدي لا یحدث بھذا الحدیث،لأن المعروف عن المغیرۃ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم مسح علیٰ الخفین،وروي ھذا أیضا عن أبي موسیٰ الأشعري عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ مسح علی الجوربین،ولیس بالمتصل ولا بالقوي۔[2] انتھیٰ قال البیھقي في سننہ:إن أبا محمد یحییٰ بن منصور قال:رأیت مسلم بن الحجاج ضعف ھذا الخبر،وقال:أبو قیس الأودي وھزیل بن شرحبیل،لا یحتملان ھذا مع مخالفتھما الأجلۃ الذین رووا ھذا الخبر عن المغیرۃ فقالوا:مسح علی الخفین،وقال:لا یترک ظاھر القران بمثل أبي قیس وھذیل۔قال:فذکرت ھذہ الحکایۃ عن مسلم لأبي العباس محمد بن عبد الرحمن الدغولي فسمعتہ یقول:سمعت علي بن محمد بن شیبان یقول:سمعت أبا قدامۃ السرخسي یقول:قال عبد الرحمن بن مھدي:قلت لسفیان الثوري:لو حدثتني بحدیث أبي [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۹۹) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۵۹)