کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 131
کا دھونا وضو میں ضروری ہے،جیسا کہ ابرو حد وجہ کے اندر داخل ہے اور اس کا دھونا فرض ہے۔ڈاڑھی کا وہ حصہ جو حد وجہ سے خارج اور مسترسل ہے،اس کا دھونا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا،پس اس قدر ڈاڑھی جو بشرہ سے ملاقی اور حد وجہ کے اندر ہے،اس کو دھو لینا ضروری ہے،رہا اس قدر کا محل یعنی چمڑہ سو ڈاڑھی کے ساتھ دھل جائے فبہا،ورنہ اس کے اندر پانی کا پہنچانا کہ وہ بالکل تر ہوجائے،سو یہ ضروری نہیں،کیونکہ اس میں دقت اور حرج ہے اور کسی حدیث سے صاف طور پر ڈاڑھی کے اس محل کا تر کرنا ڈاڑھی دھونے کے علاوہ ثابت نہیں ہوتا۔ الحاصل جس قدر ڈاڑھی بشرہ سے ملاقی اور حد وجہ کے اندر داخل ہے،اس کا دھونا آیتِ قرآنیہ اور احادیث غسلِ وجہ کی رو سے واجب اور فرض ہے اور باقی ڈاڑھی مسترسل کا دھونا ضروری نہیں،بلکہ اس کا دھونا ثابت ہی نہیں ہوتا،ہاں خلال کرنے کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں اور یہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور ان کا یہی قول مرجوع الیہ ہے۔ حدیث:(( ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰهُ خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَائِ )) [1] [پھر جب وہ اپنا چہرہ اس طرح دھوتا ہے جس طرح اس کو حکم دیا گیا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے سارے گناہ اس کی ڈاڑھی کے اطراف سے نکل جاتے ہیں ] سے غسلِ لحیہ مسترسلہ کے وجوب پر استدلال صحیح نہیں ہے،کیونکہ اطرافِ لحیہ سے پانی کا گرنا ڈاڑھی کے غسل پر موقوف نہیں ہے،بلکہ منہ دھونے سے جو پانی گرے گا،وہ ڈاڑھی و اطرافِ ڈاڑھی کو تر کرے گا،پس اس حدیث سے غسلِ لحیہ مسترسلہ کے وجوب پر استدلال ہرگز صحیح نہیں۔لأنہ إذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال۔نیز غسلِ لحیہ مسترسلہ جب حد وجہ کے اندر داخل نہیں ہے تو اس کا دھونا کیونکر واجب ہو گا؟[2] جرابوں پر مسح کرنے کی شرعی حیثیت: سوال:ما قولکم۔أدام اللّٰه تعالیٰ فیوضکم۔في المسح علی الجوربۃ الشائعۃ في الأمصار المنسوجۃ من الغزل والصوف غیر منعلۃ ولا ثخینۃ،ومعلوم أن الحدیث المروي في الباب عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ضعیف،و تحسین الترمذي وتصحیحہ إیاہ لم یقبلہ الحفاظ،کما ھو مبسوط في تخریج الھدایۃ للزیلعي،وإن قیس المسح علیھما علیٰ مسح الخفین لعلۃ الستر ودفع الحرج،فھل یکفي مع کونہ ظنیا في إسقاط الغسل المفروض بالقرآن المتواتر؟ و ھل یزاد علیٰ العلتین لکون الجوربین في حکم الخفین صفۃ الثخانۃ وعدم نفوذ الماء،کما قیدھا الأئمۃ،والأصل في باب الرجلین الغسل الثابت بالتنزیل،والمسح علیٰ الخفین [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۳۲) [2] یہ فتویٰ صرف اسی قدر لکھا ہوا تھا۔[عبدالسمیع مبارکپوری]