کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 130
تُطَہِّرَانِ‘‘[1] (رواہ الدارقطني) [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ہے بلاشبہہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گوبر یا ہڈی سے استنجا کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ یقینا وہ دونوں پاک نہیں ہیں ] میں کہتا ہوں:یہ حدیث مطلقاً ہر جانور،ماکول و غیر ماکول،کے پیشاب و پائخانہ کی نجاست پر نص صریح نہیں ہے اور بنا بر تسلیم اس حدیث سے صرف غیر ماکول جانور کے پیشاب و پائخانہ کی نجاست ثابت ہوگی:بنائً علی نقل التیمي أن الروث مختص من الخیل والبغال والحمیر،وإنا لا نقول بطہارۃ روثۃ البغال والحمر الأھلیۃ۔فتفکر! [تیمی کے نقل کی بنا پر کہ روث کا لفظ گھوڑے،خچر اور گدھے کے گوبر کے ساتھ خاص ہے اور ہم خچر اور گھریلو گدھے کے گوبر کے پاک ہونے کے کب قائل ہیں ؟ سوچو اور غور کرو] عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی فقط غیر ماکول جانور کے پیشاب و پائخانہ کی نجاست ثابت ہوتی ہے،کیونکہ صحیح ابن خزیمہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’فوجدت لہ حجرین وروثۃ حمار،فألقیٰ الروثۃ،وقال:ھذا رجس‘‘[2] [مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو پتھر اور گدھے کی گوبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا:یہ ناپاک ہے] مولوی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ’’اس حدیث سے گدھے کے پائخانہ کی نجاست بدرجہ اتم ثابت ہوتی ہے۔‘‘ (ملاحظہ ہو:اخبار ’’اہلحدیث‘‘ مجریہ ۲۴/ محرم) مختصر یہ کہ ماکول اللحم جانور کے پیشاب و پائخانہ کے نجس اور حرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے،بلکہ طہارت کی دلیل موجود ہے۔واللّٰه أعلم،وعلمہ أتم۔ کتبہ:أبو الفضل عبدالسمیع المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ ڈاڑھی کا کتنا حصہ دھونا فرض ہے؟ سوال:ڈاڑھی کا کتنا حصہ دھونا فرض ہے؟ جواب:آیت {فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ} سے اور ان تمام احادیثِ وضو سے جن میں غسلِ وجہ کا لفظ واقع ہوا ہے،ثابت ہوتا ہے کہ وضو میں تمام منہ کا دھونا فرض ہے اور اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ جس قدر ڈاڑھی بشرہ سے ملاقی ہے (جلد کے ساتھ متصل) اور حد وجہ (چہرے کی حد) کے اندر واقع ہے،وہ ضرور ’’وجہ‘‘ میں داخل ہے،پس اس قدر ڈاڑھی [1] سنن الدارقطني (۱/ ۵۶) [2] صحیح ابن خزیمۃ (۱/ ۳۹)