کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 129
قَبْلَ أَنْ یُّبْنٰی الْمَسْجِدُ‘‘[1] [مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے] میں کہتا ہوں:مولوی صاحب کا یہ دعویٰ کہ ’’مرابضِ غنم میں نماز پڑھنے کی اجازت مسجد نہ ہونے کی صورت میں ہے۔‘‘ صحیح نہیں،کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ائمہ اربعہ و جمہور علما اس کے قائل ہیں،بلکہ مرابضِ غنم میں نماز پڑھنے کی اجازت عام ہے،خواہ مسجد ہو یا نہ ہو اور مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرابضِ غنم میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ عدمِ جواز نہ تھی،بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپ مسجد نبوی کو چھوڑ کر مرابضِ غنم میں یا کسی دوسری جگہ نماز پڑھنے کو غیر محبوب رکھتے تھے،لہٰذا مولوی صاحب کا بخاری کی حدیثِ مذکور سے استدلال فاسد ہے۔ قال الحافظ:’’وحدیث أنس طرف من الحدیث الذي قبلہ،لکن بین ھناک أنہ کان یحب الصلاۃ حیث أدرکتہ أي حیث دخل وقتھا،سواء کان في مرابض الغنم أو غیرھا،وبین ھنا أن ذلک قبل أن یبنی المسجد،ثم بعد بناء المسجد صار لا یحب الصلاۃ في غیرہ إلا لضرورۃ‘‘ انتھیٰ (فتح الباري:۲/ ۲۶۲) [حافظ نے کہا:انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اسی حدیث کا ٹکڑا ہے جو اس سے پہلے ہے،لیکن انھوں نے وہاں یہ وضاحت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند تھا کہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا وقت ہو جائے وہیں نماز ادا کر لیں،خواہ وہ بکریوں کا باڑا ہو یا کوئی اور جگہ۔یہاں انھوں نے یہ صراحت کی ہے کہ یہ معاملہ مسجد تعمیر ہونے سے پہلے کا تھا،پھر مسجد کی تعمیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے علاوہ کہیں نماز ادا کرنا پسند نہ فرماتے،اِلا یہ کہ کوئی ضرورت ہو] علاوہ بریں حدیث (( صلوا في مرابض الغنم )) قولی ہے اور بخاری کی حدیث (نقل کردہ مولوی صاحب) فعلی ہے اور بقاعدہ اصولِ حدیث قولی حدیث فعلی حدیث پر مقدم ہوتی ہے۔[2] پس ثابت ہوا کہ مرابضِ غنم میں نماز پڑھنے کی اجازت عام ہے،خواہ مسجد ہو یا نہ ہو۔والحمد ﷲ علی ذلک دلیلِ نجاست پر بحث: مولوی گلزار احمد صاحب کے نزدیک مطلقاً ہر جانور،ماکول و غیر ماکول،کا پیشاب و پائخانہ حرام و نجس ہے،چنانچہ آپ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے: ’’عن أبي ھریرۃ:أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھیٰ أَنْ یُسْتَنْجیٰ بِرَوْثٍ أَوْ بِعَظْمٍ۔وَقَالَ:إِنَّھُمَا لاَ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۳۲) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۵۲۴) [2] ’’الثاني:أن یکون أحدھما قولا،والآخر فعلا،فیقدم القول،لأن لہ صیغۃ،والفعل لا صیغۃ لہ‘‘ (قواعد التحدیث،ص:۳۰۴) [مولف]