کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 125
بشناسد و نہ از کسے شنیدم کہ چاہ زمزم نزح کردہ شد،و شافعی گفت کہ این روایت از ابن عباس اگر ثابت شود پس شاید نجاست بر روئے آب ظاہر شدہ باشد یا نزح برائے تنظیف باشد،پس از قول ابن عیینہ و امام شافعی ہم مخدوش شدن استدلال بہ فتویٰ ابن عباس ظاہر است۔واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ کیا منی پاک ہے یا ناپاک؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے اہل حدیث اس مسئلے میں کہ منی پاک ہے یا ناپاک؟ جواب:منی کے پاک اور ناپاک ہونے کے بارے میں حدیثیں مختلف آئی ہیں۔بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ منی پاک ہے اور بعض سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناپاک ہے،اسی وجہ سے اس بارے میں علما کی آرا مختلف ہیں۔امام شافعی،امام احمد اور اصحاب الحدیث کے نزدیک منی پاک ہے۔امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں لکھا ہے کہ بہت سے لوگوں کا مذہب ہے کہ منی پاک ہے اور حضرت علی اور سعد بن ابی وقاص اور عبداﷲ بن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے کہ منی پاک ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک ناپاک ہے۔[1] اصحاب الحدیث کے نزدیک منی کے پاک ہونے کی تصریح حافظ ابن حجر نے فتح الباری (۱/۱۶۵) میں اور نووی نے شرح صحیح مسلم (ص:۱۴۰) میں کی ہے،مگر متاخرین اہل حدیث میں علامہ شوکانی کی تحقیق یہ ہے کہ منی ناپاک ہے،چنانچہ وہ نیل الاوطار (۱/ ۵۴) میں اس مسئلے کو مع مالہا وما علیہا لکھ کر آخر میں لکھتے ہیں: ’’فالصواب أن المني نجس،یجوز تطھیرہ بأحد الأمور الواردۃ‘‘ انتھیٰ یعنی صواب یہ ہے کہ منی نجس ہے،اس کا پاک کرنا کسی ایک طریقے سے منجملہ ان طریقوں کے،جو احادیث میں وارد ہیں،جائز ہے۔ جن علما کے نزدیک منی پاک ہے،ان کی دلیل وہ حدیثیں ہیں،جن میں منی کے کھرچنے اور چھیلنے کا ذکر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر منی ناپاک اور نجس ہوتی تو اس کا صرف کھرچنا اور چھیلنا کافی نہ ہوتا،بلکہ اس کا دھونا ضروری ہوتا،جیسا کہ تمام نجاستوں کا حال ہے اور جن حدیثوں میں منی کے دھونے کا بیان ہے،وہ ان احادیث کو استحباب پر محمول کرتے ہیں۔ان لوگوں کی ایک دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا منی کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے تو آپ نے فرمایا:منی بمنزلہ تھوک اور رینٹ کے ہے،کسی خرقہ سے یا اذخر سے اس کا پونچھ ڈالنا کافی ہے۔[2] ’’قال في شرح المنتقیٰ بعد ذکرہ:رواہ الدار قطني:وقال:لم یرفعہ غیر إسحاق الأزرق [1] شرح صحیح مسلم (۳/ ۱۹۸) [2] سنن الدارقطني (۱/ ۱۲۴) اس کی سند میں شریک اور ابن ابی لیلیٰ دو راوی ضعیف ہیں۔البتہ یہ سیدنا ابن عباس سے موقوفاً صحیح مروی ہے۔دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۹۴۸)