کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 124
حدیث کی سند منقطع ہے‘‘ کیوں کہ ابن سیرین کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات نہیں ہوئی اور اس کے چند ایک طرق بھی ہیں،جو سب کے سب ضعیف ہیں۔ ثانیاً:اگر اس کی صحت تسلیم کر بھی لی جائے تو اس سے حجت نہیں لی جا سکتی،کیوں کہ صحابی کا قول ہے اور وہ احناف کے نزدیک بھی حجت نہیں ہے،چناں چہ محمد طاہر پٹنی حنفی نے ’’مجمع البحار‘‘ میں اس کی تصریح کی ہے۔ ثالثاً:اگر صحابی کے قول کو حجت تسلیم کر بھی لیا جائے،تو حدیث صحیح مرفوع کا معارض نہیں ہوسکتا،چناں چہ ’’فتح القدیر،کتاب الصلاۃ‘‘ میں خود علماے احناف نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ وجوہ مذکورہ بالا کی بنا پر قابلِ قبول نہیں ہے اور اسی بنا پر ہدایہ کا بھی فیصلہ قبول نہیں۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ احناف اس کنویں کے پانی کو تو ناپاک کہتے ہیں اور اس پانی کو جو اس سے سیکڑوں حصے کم ہے اور گندگی اس سے زیادہ ہے،اس کو پاک کہہ لیتے ہیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:اگر بارش کے وقت مکان کے پرنالے میں گندگی (پاخانہ وغیرہ) پڑی ہو اور بارش کا پانی اس کے ساتھ لگ کر بہہ رہا ہو تو اگر آدھے سے زیادہ یا آدھا پانی لگ کر گزرے تو ناپاک ہے اور اگر آدھے سے کم لگ کر گزرے تو پاک ہے اور اگر مکان کی چھت پر متفرق طور پر گندگی پڑی ہو اور بارش کا پانی اس پر برس کر پرنالے سے گرے تو وہ پانی پاک ہے۔(سبحان اﷲ کیا تحقیق ہے) اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ پانی جاری ہے،واللّٰه أعلم۔ ہو الموافق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ در درایہ (ص:۳۰) گفتہ:’’وروی البیھقي من طریق ابن عیینۃ قال:أنا بمکۃ منذ سبعین سنۃ،لم أر صغیراً ولا کبیراً یعرف حدیث الزنجي،ولا سمعت أحداً یقول:نزحت زمزم،وقال الشافعي:إن ثبت ھذا عن ابن عباس فلعل نجاستہ ظھرت علی وجہ الماء أو نزحت للتنظیف‘‘ حافظ ابن حجر نے ’’درایہ‘‘ (ص:۳۰) میں لکھا ہے کہ بیہقی نے ابن عیینہ سے نقل کیا ہے کہ میں مکے میں ستر سال رہا،میں نے کسی چھوٹے یا بڑے سے حبشی والی حدیث نہیں سنی اور نہ ہی زمزم کے پانی نکالنے کا قصہ کسی سے سنا۔امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ ابن عباس سے ثابت بھی ہو تو ہو سکتا ہے اس کی نجاست پانی کے اوپر آ گئی ہو یا کنویں کو صاف کرنے کے لیے اس کا پانی نکال لیا گیا ہو۔واﷲ أعلم] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] یعنی بیہقی از طریق ابن عیینہ روایت کرد کہ من در مکہ ہفتاد سال بودم کسے را از صغیر و کبیر ندیدم کہ حدیث زنجی را [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۳۸)