کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 123
باشد و بر آن بارش شود،پس میزاب جاری شود،اگر آن نجاست نزد میزاب باشد و ہمہ آب یا اکثر آن یا نصف آن ملاقی نجاست شود،پس آن نجس است ورنہ طاہر است،و اگر نجاست بر سطح مکان در مواضع متفرقہ باشد و برسر میزاب نہ باشد آن آب نجس نہ خواہد شد،چنانچہ در عالم گیری مرقوم است: ’’ولو کان علی السطح عذرۃ فوقع علیہ المطر فسال المیزاب،إن کانت النجاسۃ عند المیزاب،وکان الماء کلہ یلاقي العذرۃ أو أکثرہ أو نصفہ فھو نجس وإلا فھو طاھر،وإن کانت العذرۃ علی السطح في مواضع متفرقۃ،ولم تکن علی رأس المیزاب،لا یکون نجسا،و حکمہ حکم الماء الجاري،کذا في السراج الوھاج‘‘[1] (عالمگیری جلد اول کتاب الطھارۃ باب ثالث فصل اول)واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ الراقم:أبو محمد عبد الحق أعظم گڑھی،عفي عنہ۔سید محمد نذیر حسین [اگر کتا کنویں میں گر پڑے اور پانی کا رنگ یا مزہ یا بو تبدیل نہ ہو تو وہ پانی پاک ہے،ورنہ ناپاک،کیوں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’’پانی پاک ہے،اس کو کوئی چیز پلید نہیں کر سکتی‘‘ اور پھر یہ بھی فرمایا:پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کر سکتی،ہاں اگر کوئی ناپاک چیز اس کے رنگ یا مزہ یا بو پر غالب آکر اس کو بدل دے تو ناپاک ہوجاتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو ابو حاتم نے ضعیف کہا ہے،لیکن دوسرے طرق سے اس کی تائید ہوجاتی ہے اور دوسری حدیث کے آخری حصے پر امت کا اجماع ہے،یعنی اگر ناپاک چیز پانی میں گر کر اس کے رنگ یا مزہ یا بو کو بدل دے تو وہ ناپاک ہے۔اس حدیث کے پچھلے حصے پر اجماع ہی اس کے پہلے حصے کی بھی توثیق کر دیتا ہے،چناں چہ ’’سبل السلام شرح بلوغ المرام‘‘ میں اس کو تفصیلاً ذکر کیا ہے،ہاں اگر پانی دو قلہ (قریباً پانچ مٹکے) سے کم ہو تو وہ نجاست کے گرنے سے ناپاک ہوجائے گا،خواہ اس کا رنگ یا بو یا مزہ بدلے یا نہ بدلے۔چناں چہ بلوغ المرام میں حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب پانی دو قلہ ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔یہ تحقیق تو ازروئے حدیث ہے۔ فقہ حنفی کی رو سے اس کنویں کا تمام پانی نکالا جائے گا،چناں چہ ہدایہ میں ہے:اگر کنویں میں بکری یا آدمی یا کتا گر کر مرجائے تو اس کا تمام پانی نکالا جائے گا،کیوں کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے یہی فتویٰ دیا تھا،جب کہ زمزم کے کنویں میں ایک حبشی گر کر مر گیا۔لیکن یہ حکم کئی لحاظ سے قابلِ تسلیم نہیں ہے: اولاً:اس لیے کہ اس کی بنیاد ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے فتوے پر ہے اور وہ فتویٰ کئی لحاظ سے مخدوش ہے۔اولاً اس لیے کہ اس کی سند ضعیف ہے،چناں چہ ’’درایہ تخریج ہدایہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’حبشی والی [1] الفتاویٰ الھندیۃ (۱/ ۱۷)