کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 120
وہاں رائج نہ تھا؟ جواب:بے شک عہدِ نبوی میں بلکہ عہدِ صحابہ میں بلکہ امام مالک کے زمانے تک مدینہ منورہ میں صاع حجازی ہی کا رواج تھا اور اسی سے مدینے کے لوگ صدقہ فطر دیا کرتے تھے۔ حصولِ دنیا کے لیے انگریزی پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ انگریزی پڑھنا بغرض حصولِ دنیا کے جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:بغرض حصولِ معاش و رفعِ حاجت کے انگریزی پڑھنی جائز ہے۔جامع ترمذی میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: (( أَمَرَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ أَتَعَلَّمَ لَہُ کَلِمَاتٍ مِنْ کِتَابِ یَھُوْدَ،وَقَالَ:إِنِّيْ وَاللّٰه مَا آمَنُ یَھُوْدَ عَلیٰ کِتَابِيْ۔قَالَ:فَمَا مَرَّ بِيْ نِصْفُ شَھْرٍ حَتّٰی تَعَلَّمْتُہُ لَہُ۔قَالَ:فَلَمَّا تَعَلَّمْتُہُ کَانَ إِذَا کَتَبَ إِلیٰ یَھُوْدَ کَتَبْتُ إِلَیْھِمْ،وَإِذَا کَتَبُوْا إِلَیْہِ قَرَائَ تُ لَہُ کِتَابُھُمْ )) قال الترمذي:ھذا حدیث حسن صحیح،وقد روي من غیر ھذا الوجہ عن زید بن ثابت،وقد رواہ الأعمش عن ثابت بن عبید عن زید بن ثابت یقول:(( أَمَرَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْیَانِیَۃِ‘‘[1] (جامع ترمذي،أبواب الاستیذان والأدب) [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہودیوں کی خط کتابت کی تعلیم دلوائی اور فرمایا:خدا کی قسم! میں اپنی تحریر کے متعلق یہودیوں سے مطمئن نہیں ہوں،پھر میں نے پندرہ دن میں خط کتابت سیکھ لی،پھر جب میں سیکھ گیا تو اس کے بعد یہودیوں کی طرف جو خط کتابت ہوتی،وہ میں کرتا اور جب ان کی طرف سے کوئی نوشت آتی تو اس کو میں پڑھتا۔زید بن ثابت کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا تھا] حررہ:عبد الرحیم،عفی عنہ سید محمد نذیر حسین هوالموافق بغرض حصولِ معاش انگریزی پڑھنا جائز ہے،مگر ایسے طریق سے کہ نیچریت اور الحاد تک نہ پہنچا دے،ورنہ ہرگز جائز نہیں ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۷۱۵) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۲۵)