کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 119
’’حجۃ أبي یوسف ما رواہ الطحاوي عنہ قال:قدمت المدینۃ،وأخرج إلي من أثق بہ صاعا وقال:ھذا صاع النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم،فوجدتہ خمسۃ أرطال وثلث،وقال الطحاوي:وسمعت ابن عمران یقول:الذي أخرجہ لأبي یوسف ھو مالک‘‘ [ابو یوسف کی دلیل وہ ہے جو امام طحاوی نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا:میں مدینے آیا تو اس شخص نے میرے سامنے صاع نکالا جس پر مجھے اعتماد ہے اور اس نے کہا:یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے تو میں نے اسے پانچ اور ثلث رطل پایا۔امام طحاوی نے کہا:میں نے ابن عمران سے سنا کہ وہ کہتے تھے:ابو یوسف کو جس نے صاع پیش کیا وہ امام مالک تھے] سوال:کیا وجہ ہے کہ امام ابو یوسف نے کچھ جانچ پڑتال نہیں کی اور امام مالک کے صرف اتنے کہہ دینے سے کہ یہ صاع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے،کیونکر ان کو اتنا وثوق اور کامل اطمینان ہوگیا کہ فوراً اپنے امام ابوحنیفہ کے صاعِ عراقی کو خیر باد کہہ کر صاعِ حجازی کے قائل ہوگئے اور اپنے امام کی مخالفت کی کچھ پروا نہیں کی؟ جواب:امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس خصوص میں امام مالک سے مناظرہ کیا اور خوب جانچ پڑتال کر کے اپنے امام کی مخالفت کی ہے اور صاع حجازی کے قائل ہوئے ہیں۔اس مناظرہ کی سند جید ہے۔[1] حافظ زیلعی جو حنفی مذہب کے ایک بہت بڑے امام ہیں،اپنی کتاب نصب الرایہ (ص:۴۳۲) میں لکھتے ہیں کہ امام بیہقی نے حسین بن الولید سے جو ایک ثقہ شخص ہیں،روایت کی ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ حج بیت اﷲ سے فارغ ہو کر ہمارے یہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں مدینہ مکرمہ میں پہنچا تو صاع کے متعلق میں نے وہاں کے لوگوں سے دریافت کیا تو وہاں کے لوگوں نے کہا کہ ہم لوگوں کا یہ صاع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔میں نے کہا کہ کیا ثبوت ہے کہ آپ لوگوں کا یہ صاع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم کل اس کا ثبوت آپ کو دیں گے۔جب صبح ہوئی تو بہت سے بوڑھے بوڑھے شخص،جو مہاجرین اور انصار صحابہ کے بیٹے تھے،جن کی تعداد پچاس کے قریب تھی،میرے پاس آئے اور ان میں سے ہر ایک شخص کے ہاتھ میں ایک ایک صاع تھا،جس کو وہ اپنی چادر کے نیچے لیے ہوئے تھے،پس ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنا اپنا صاع دکھا کر بیان کیا کہ میرے باپ نے اور میرے گھر کے لوگوں نے بیان کیا ہے کہ یہ صاع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے تو میں نے ان تمام صاعوں کو دیکھا تو یہ سب برابر تھے،پھر میں نے ان کو ناپا تو ان کے صاع کی مقدار پانچ رطل اور ایک تہائی رطل تھی،ذرا سا کم،پس میں نے اس (حجازی) کا معاملہ قوی پایا،اس وجہ سے صاع کے بارے میں ابو حنیفہ کے قول کو ترک کر دیا۔[2] سوال:کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں صاع حجازی ہی مروج و مستعمل تھا؟ صاعِ عراقی [1] التلخیص الحبیر (۲/ ۱۸۶) [2] نصب الرایۃ (۲/ ۳۰۵)