کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 115
علامہ شوکانی نے ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (ص:۱۴۵) میں بہت سے معمرین کذابین مدعیانِ صحبت کا ذکر مع ان کی تکذیب کے کیا ہے،پھر آخر میں لکھتے ہیں: ’’ومما یدفع دعاویٰ ھؤلاء إجماع أھل العلم علی أن آخر الصحابۃ موتا في جمیع الأمصار أبو الطفیل عامر بن واثلۃ الجھني،وکان موتہ سنۃ اثنتین ومائۃ بمکۃ‘‘ انتھیٰ [ان کے دعوے کی تردید کے لیے علما کا اجماع کافی ہے کہ صحابہ میں آخری صحابی ابو طفیل عامر بن واثلہ جہنی ۱۰۲ھ میں فوت ہوئے] نیز علامہ محمد طاہر ’’مجمع البحار‘‘ (۲/ ۵۱۴) میں لکھتے ہیں: ’’وقد اتفقوا علی أن آخر من مات في جمیع الأرض من الصحابۃ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ سنۃ مائۃ واثنین بمکۃ،وقد ثبت أنہ قال صلی اللّٰه علیہ وسلم قبل موتہ بشھر أو نحوہ:فإن علیٰ رأس مائۃ سنۃ لا یبقیٰ علیٰ وجہ الأرض،فانقطع المقال۔۔۔قال:وقد بسطت القول في المعمرین في تذکرۃ الموضوعات فطالعہ ینفعک فإنہ کتاب نفیس تلقتہ علماء الحرمین بالقبول،انتھیٰ‘‘ واللّٰه تعالیٰ أعلم،وعلمہ أتم۔ [اس پر اتفاق ہے کہ تمام روئے زمین پر آخری صحابی جو فوت ہوئے،وہ ابو الطفیل عامر بن واثلہ ہیں،جو ۱۰۲ھ میں مکہ میں فوت ہوئے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک مہینا پہلے یہ فرمایا تھا کہ آج سے سو سال بعد روئے زمین پر آج کا کوئی انسان زندہ نہ رہے گا،اس حدیث سے ساری بحث ہی ختم ہوگئی۔میں نے معمرین کے متعلق ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ میں بڑے بسط سے کلام کیا ہے،اس کا مطالعہ کرو،تجھے بہت نفع ہو گا،کیوں کہ وہ بڑی نفیس کتاب ہے۔علماے حرمین شریفین کے ہاں اسے قبولِ عام حاصل ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح ہوئی تھی: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ مابین حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ و حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے صلح واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر واقعہ ہوئی تو کس عنوان سے؟ اس کا مضمون مفصل ارشاد ہو۔ جواب:حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگِ جمل کے بعد جب کوفہ میں آئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مع اپنے شامی ساتھیوں کے ان پر خروج کیا،اس خبر کے معلوم ہونے پر حضرت علی لشکر لے کر چلے اور مقامِ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۰۷)