کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 113
آیا یہ قول صحیح ہے یا غلط؟ جواب:جو شخص یہ کہتا ہے کہ صحاح ستہ میں پچاس حدیثیں موضوع ہیں،اس کا یہ قول سراسر غلط ہے اور وہ شخص محض جاہل و ناواقف ہے۔صحیح بخاری و صحیح مسلم میں تمام احادیثِ مرفوعہ مسندہ صحیح ہیں،ان میں کسی حدیث کا موضوع ہونا کیا معنی،کوئی حدیث ضعیف بھی نہیں ہے اور ان احادیثِ مرفوعہ مسندہ کے علاوہ اور جتنی روایات تعلیقات وغیرہ ہیں،ان میں کوئی روایت موضوع نہیں ہے۔رہیں سنن اربعہ سو جامع ترمذی اور ابو داود اور نسائی میں بھی کوئی حدیث موضوع نہیں ہے۔[1] ہاں ابن ماجہ میں صرف ایک حدیث موضوع بتائی جاتی ہے،جو ابن ماجہ کے شہر قزوین کی فضیلت میں آئی ہے۔علامہ شوکانی رحمہ اللہ ’’الفوائد المجموعۃ‘‘ (ص:۱۵۰) میں لکھتے ہیں: ’’حدیث:ستفتح علیکم الآفاق،ویفتح علیکم مدینۃ،یقال لھا قزوین،من رابط فیھا أربعین،لہ في الجنۃ عمودین من ذھب (إلی قولہ) قد أوردہ ابن الجوزي في الموضوعات فأصاب،ولعل ھذا ھو الحدیث الذي یقال:إن في سنن ابن ماجہ حدیثاً موضوعاً ‘‘ انتھیٰ [تمھارے لیے دنیا فتح ہوتی جائے گی،اور ایک شہر فتح ہوگا،جس کا نام قزوین ہوگا،جو اس میں چالیس دن پہرہ دے گا،اس کے لیے جنت میں سونے کے دو ستون ہوں گے۔ابن جوزی نے اس کو موضوع کہا ہے اور شاید یہی وہ حدیث ہے،جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سنن ابن ماجہ میں ایک موضوع حدیث ہے] مگر حافظ سیوطی اپنے تعقبات میں لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ کی اس حدیث کو موضوعات کے سلک میں درج کرنا نہیں چاہیے۔عبارتہ ہکذا: ’’قلت:أخرجہ ابن ماجہ۔قال المزي في التھذیب:إنہ حدیث منکر،لا یعرف إلا من روایۃ داود،و المنکر من قسم الضعیف،وھو محتمل في الفضائل،و عبارتہ في آخر الکتاب ھکذا:ھذا آخر ما أوردتہ في ھذا الکتاب من الأحادیث المتعقبۃ التي لا سبیل إلی إدراجھا في سلک الموضوعات‘‘[2] انتھی،واللّٰه تعالیٰ أعلم،وعلمہ أتم۔ [اس کو ابن ماجہ نے بیان کیا ہے۔مزی نے تہذیب میں کہا ہے:یہ حدیث منکر ہے،جو صرف داود سے مروی [1] بلاشبہہ صحیحین میں باتفاق امت کوئی موضوع حدیث نہیں ہے،البتہ سنن اربعہ میں بعض میں علما قدیماً و حدیثاً بعض موضوعات کا ذکر کرتے آئے ہیں،چنانچہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے سنن ترمذی میں اٹھارہ (۱۸) اور سنن ابن ماجہ میں پینتالیس (۴۵) موضوعات کا ذکر کیا ہے،اسی طرح انھوں نے سنن ابی داود کی ایک حدیث (۵۲۷۳) کو موضوع کہا ہے،جو محل نظر ہے۔مذکورہ بالا تعداد ایک تقریبی اندازہ ہے،جس سے اختلاف ممکن ہے،البتہ اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ سنن اربعہ میں بعض کے اندر موضوع احادیث موجود ہیں۔ [2] التعقبات (ص:۳۶۰)