کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 112
گفت آں حضرت ثابت شد مرا نبوت و حال آنکہ آدم میان روح و جسد بود،یعنی خلقت آدم تمام نشدہ بود و روح او بجسد متعلق نشدہ بود کنایت از سبق تقدم است‘‘ انتہی[1] (ایں فتویٰ نا تمام بود) [2] [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! متی وجبت لک النبوۃ؟ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کب نبوت واجب ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کب نبی نامزد ہوئے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وآدم بین الروح والجسد ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:میرے لیے تب نبوت ثابت ہو گئی جب آدم علیہ السلام روح و جسم کے درمیان تھے۔‘‘ یعنی آدم علیہ السلام کی تخلیق مکمل نہیں ہوئی تھی،اور ان کی روح جسم کے ساتھ متعلق نہیں ہوئی تھی،یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدم کی طرف اشارہ ہے] حدیثِ نبوی ’’مومن کا مال نہیں کھاتا مگر مومن‘‘ کا مطلب: سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین و شرع متین ان مسائلِ مندرجہ ذیل میں: حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’مومن کا مال نہیں کھاتا مگر مومن‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ مثال مع تشریح ہو؟ جواب:اس مضمون کی حدیث کہ ’’مومن کا مال نہیں کھاتا مگر مومن‘‘ مجھے معلوم نہیں۔ہاں ترمذی اور ابوداود میں یہ حدیث آئی ہے:(( لَا یَأکُلْ طَعَامَکَ إِلاَّ تَقِيٌّ )) [3] یعنی تیرا کھانا نہ کھائے مگر پرہیزگار۔مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ فاسق و فاجر کی دعوت کرنا اور ان کو دعوت کا کھانا کھلانا نہیں چاہیے،بلکہ متقی اور پرہیزگار کی دعوت کرنا اور ان کو دعوت کھلانا چاہیے اور انھیں کے ساتھ مواکلت و مشاربت رکھنا چاہیے،لیکن کسی بھوکے پیاسے غیر پرہیزگار کو کھلا پلا دینا منع نہیں ہے۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم کتبہ:محمد عبد الرحمن،عفا اللّٰه عنہ۔ کیا صحاحِ ستہ میں پچاس احادیث موضوع ہیں ؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ صحاح ستہ میں پچاس حدیثیں موضوع ہیں، [1] أشعۃ اللمعات (۴/۴۹۹) [2] اس حدیث میں ’’مکتوب‘‘ سے مراد خدا کے علم میں مکتوب ہونا ہے۔اس کی مثال حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول ہے:{اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا} [مریم:۳۰] تفسیر خازن میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:’’وھذا إخبار عما کتب لہ في اللوح المحفوظ،کما قیل للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:متی کتبت نبیا؟ قال:کنت نبیا وآدم بین الروح والجسد‘‘ (تفسیر خازن:۳/ ۳۲۰)نیز مروی ہے:(( أنا خاتم الأنبیاء في أم الکتاب وآدم لمنجدل في طینتہ )) (تحفۃ الأحوذي:۳/ ۲۴۱) ایک حدیث میں ہے:’’عن أم سلمۃ قالت:لا تزال یصیبک في کل عام وجع من الشاۃ المسمومۃ التي أکلت،قال:ما أصابني شییٔ منھا إلا وھو مکتوب علي،وآدم في طینتہ‘‘ رواہ ابن ماجہ،کذا في المشکاۃ في باب الإیمان بالقدر۔[عبدالسمیع مبارک پوری] [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۸۳۲) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۳۹۵)